پاکستانامیگریشن نیوز

امریکہ میں سیاسی پناہ کیس فائل کرنے والوں کو تیسرے ملک بھیجنے کی تیاریاں

امریکی حکومت نے حال ہی میں ہونڈوراس، یوگنڈا اور دیگر ممالک کے ساتھ نئے “سیف تھرڈ کنٹری” معاہدے کیے ہیں، جن کے تحت پناہ کے متلاشی افراد کو ان ممالک میں منتقل کیا جا سکتا ہے

نیویارک ( محسن ظہیر سے ) امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ نے پناہ کے نظام میں سخت ترین اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے صرف گذشتہ ماہ تقریباً پانچ ہزار درخواستیں دائر کیں، جن میں پناہ کے کیسز کو بغیر سماعت ختم کرنے اور درخواست گزاروں کو تیسرے ممالک بھیجنے کی سفارش کی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کےت مطابق اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد اس موسمِ گرما میں دائر ہونے والی چند سو درخواستوں کے مقابلے میں غیر معمولی اضافہ ہے۔

امریکی حکومت نے حال ہی میں ہونڈوراس، یوگنڈا اور دیگر ممالک کے ساتھ نئے “سیف تھرڈ کنٹری” معاہدے کیے ہیں، جن کے تحت پناہ کے متلاشی افراد کو ان ممالک میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ملک بھر کی امیگریشن عدالتوں میں سرکاری وکلاءججوں سے درخواست کر رہے ہیں کہ پناہ کے کیسز کو سماعت کے بغیر ہی ختم کر دیا جائے۔نومبر میں کم از کم 230 ایسے افراد کو ہونڈوراس بھیجنے کا حکم دیا گیا جو اس ملک کے شہری نہیں تھے ، یہ تعداد ستمبر میں صرف ایک تھی۔
یوگنڈا بھیجنے کے فیصلوں پر امیگریشن وکلاءنے سخت اعتراضات اٹھائے ہیں۔ نئی ہدایات کے مطابق یوگنڈا بھیجنے کی درخواستیں صرف افریقی ممالک کے شہریوں کے لیے دائر کی جا سکتی ہیں، جب کہ پہلے سے دائر درخواستیں واپس لینے کا حکم دیا گیا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں۔پناہ کے کیسز کی تعداد تقریباً چار ملین تک پہنچ چکی ہے، اور ایک کیس کے فیصلے میں اوسطاً چار سال لگ رہے ہیں۔
نیو یارک کے 26 فیڈرل پلازہ سمیت کئی عدالتوں میں اس ہفتے تقریباً ہر پناہ کیس میں سرکاری وکلاءنے کیس ختم کرنے اور درخواست گزاروں کو یوگنڈا یا دیگر معاہداتی ممالک بھیجنے کی درخواست کی۔کئی وکلاءنے اعتراضات اٹھائے، مگر ججوں نے واضح کیا کہ انہیں اپیل بورڈ کے حالیہ فیصلے کے تحت ان درخواستوں پر عمل کرنا ہوگا۔پناہ کے نظام میں یہ تیز رفتار تبدیلیاں ہزاروں افراد کے مستقبل پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو امریکہ کا پناہ کا نظام اپنی بنیادی شکل کھو سکتا ہے۔

US Plans to Send Asylum Seekers to Third Countries Under New “Safe Third Country” Deals


The United States government has signed new “Safe Third Country” agreements with Honduras, Uganda, and other nations. Under these deals, asylum seekers who file cases in the US may be transferred to third countries, where their asylum claims could be processed instead of being heard in America.

Related Articles

Back to top button