نیویارک ( محسن ظہیر سے ) سال 2025 دنیا اور خاص طور پر امریکہ، نیویارک اور پاکستان کے لیے غیر معمولی اور تاریخی واقعات سے بھرپور رہا۔ یہ سال سیاسی تبدیلیوں، جنگ، سخت فیصلوں اور بڑے معاشی واقعات کا سال ثابت ہوا، جبکہ آنے والا سال 2026 مزید چیلنجز اور تبدیلیوں کی نوید دے رہا ہے۔سال 2025 کے اوائل میں امریکہ میں صدارتی الیکشن کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار امریکہ کے صدر منتخب ہو گئے۔ ان کی واپسی کے بعد امریکی سیاست میں ایک بار پھر سخت لہجہ اور مضبوط فیصلوں کا دور شروع ہوا، خاص طور پر امیگریشن کے معاملے پر۔
اسی سال نیویارک سٹی کی تاریخ میں ایک تاریخی لمحہ آیا، جب زوہران ممدانی نیویارک سٹی کے پہلے مسلمان، ساو¿تھ ایشین اور امیگرنٹ میئر منتخب ہوئے۔ ان کی کامیابی کو امیگرنٹ کمیونٹیز اور اقلیتوں کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر سال 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہوئی، جس نے خطے میں شدید کشیدگی پیدا کی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار اس کا کریڈٹ لیتے رہے۔ پاکستان میں اسی دوران جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی اور چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ بھی قائم کیا گیا۔
معاشی میدان میں پاکستان کے لیے ایک بڑا فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب سال کے آخر میں قومی ائیر لائن پی آئی اے کی نیلامی مکمل ہوئی، جسے عارف حبیب گروپ نے خرید لیا۔ اس فیصلے کو معیشت میں اصلاحات کی ایک بڑی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکہ میں سال 2025 سخت ترین امیگریشن پالیسیوں کے حوالے سے بھی یاد رکھا جائے گا۔ غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے، جبکہ ماہرین کے مطابق سال 2026 میں امیگریشن قوانین مزید سخت ہونے کا امکان ہے۔
پاکستانی سیاست میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے سال 2025 بھی جیل میں گزارا۔ وہ گزشتہ دو برس سے قید میں ہیں اور حال ہی میں توشہ خانہ سمیت دیگر مقدمات میں انہیں متعدد سال کی سزائیں سنائی گئیں، جس سے ملکی سیاست میں مزید ہلچل پیدا ہوئی۔
مجموعی طور پر سال 2025 سیاسی اتار چڑھاو¿، جنگ، سخت فیصلوں اور تاریخی تبدیلیوں کا سال رہا، جبکہ سال 2026 سے دنیا کو مزید سیاسی، معاشی اور امیگریشن سے متعلق چیلنجز کا سامنا ہونے کی توقع ہے۔



