پاکستانبین الاقوامی

پی آئی اے کی نجکاری ، ہر بات جو جاننا ضروری ہے

پاکستان کی قومی ائیرلائنز پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق اہم نکات

 

1️⃣ پی آئی اے کو کیوں بیچا جا رہا ہے؟

  • پی آئی اے مسلسل نقصان میں ہے
  • 2015 سے 2025 تک تقریباً 500 ارب روپے کا نقصان
  • کل قرضہ 600 ارب روپے سے زائد + ریٹائرڈ ملازمین کی ذمہ داریاں
  • ہر سال اوسطاً 50 ارب روپے کا خسارہ
  • سوال یہ بھی ہے: کیا حکومت کا کام کاروبار چلانا ہے؟

2️⃣ اصل میں فروخت کیا کیا جا رہا ہے؟

  • ایک چلتی ہوئی ایئرلائن
  • 33 جہاز (جن میں سے 18 فعال ہیں)
  • دنیا بھر میں تقریباً 170 اسلاٹس
  • 78 روٹس / منزلیں
  • 97 بین الاقوامی ایئرلائن اجازت نامے
  • اثاثے: 190 ارب روپے
  • واجبات: 181 ارب روپے
  • خالص مالیت (Net Equity): صرف 9 ارب روپے

حکومت نے پی آئی اے کو چھوٹے حصے میں پیش کیا تاکہ خریدار دلچسپی لیں۔


3️⃣ پی آئی اے کو پرکشش بنانے کے لیے کیا الگ کیا گیا؟

  • 600 ارب روپے کا قرضہ حکومت نے اپنے ذمے لیا
  • ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن، علاج اور مفت ٹکٹ کی ذمہ داری حکومت پر رہے گی
  • روزویلٹ اور اسکرائب ہوٹلز جیسے اثاثے الگ کر دیے گئے (بعد میں بیچے جائیں گے)

4️⃣ نجکاری کا طریقہ کار کیا تھا؟

  • اپریل میں حکومت نے دلچسپی رکھنے والوں سے درخواستیں طلب کیں
  • شرائط:
    • کنسورشیم کی نیٹ مالیت کم از کم 30 ارب روپے
    • لیڈ پارٹنر کی نیٹ مالیت کم از کم 8 ارب روپے
    • کم از کم 10 سال سے بڑا کاروبار یا ایئرلائن چلانے کا تجربہ
  • 8 پارٹیوں نے دلچسپی لی
  • 4 کنسورشیم اہل قرار پائے
    • عارف حبیب
    • لکی گروپ
    • ایئر بلیو
    • فوجی گروپ
  • کوئی غیر ملکی کمپنی شامل نہیں ہوئی

5️⃣ خریداروں کو کیا رعایتیں دی گئیں؟

  • جہازوں اور انجنز پر جی ایس ٹی ختم
  • ڈبل ٹیکسیشن میں رعایت
  • 15 سال کی پالیسی تسلسل کی یقین دہانی

حکومت نے اس کے بعد ریزرو پرائس مقرر کی۔


6️⃣ قیمت کیسے طے ہوئی؟

چار طریقوں سے ویلیو نکالی گئی:

  • کیش فلو (DCF)
  • دیگر ایئرلائنز سے موازنہ
  • عالمی سودوں کی مثالیں
  • اثاثوں کی ایڈجسٹڈ ویلیو

نتیجہ: 75٪ حصص کی قیمت تقریباً 100 ارب روپے
کابینہ سے منظوری ملی۔


7️⃣ بولی والے دن کیا ہوا؟

  • عارف حبیب: 115 ارب
  • لکی گروپ: 101 ارب
  • ایئر بلیو: 26 ارب

آخرکار عارف حبیب نے 135 ارب روپے میں 75٪ حصص خرید لیے


8️⃣ اصل ڈیل کیا ہے؟ (غلط فہمی دور کریں)

  • 135 ارب میں سے:
    • 125 ارب روپے پی آئی اے کو جائیں گے
    • 10 ارب روپے حکومت کو ملیں گے
  • حکومت کے پاس 25٪ حصص برقرار رہیں گے
  • خریدار چاہیں تو 90 دن میں فیصلہ کر کے یہ 25٪ بھی خرید سکتے ہیں
  • ادائیگی ایک سال میں، 12٪ سود کے ساتھ

9️⃣ حکومت کے 25٪ حصص کی قیمت کتنی ہے؟

  • 75٪ = 135 ارب
  • پوری کمپنی کی قیمت = 180 ارب روپے
  • 25٪ کی قیمت = 45 ارب روپے

🔟 حکومت کو کل فائدہ کتنا؟

  • نقد رقم: 10 ارب روپے
  • 25٪ حصص کی ویلیو: 45 ارب روپے
  • کل فائدہ = 55 ارب روپے

👨‍✈️ ملازمین کا کیا ہوگا؟

  • ایک سال کا تحفظ حاصل ہوگا
  • پنشن اور دیگر حقوق نئی کمپنی کی ذمہ داری
  • ایک سال بعد اگر چھانٹی ہوئی تو بات چیت کے ذریعے، جیسے نجی اداروں میں ہوتا ہے

کیا یہ اچھا سودا ہے؟

میری نظر میں: ہاں

وجوہات:

  • کمپنی کی خالص مالیت صرف 9 ارب تھی
  • حکومت کو 55 ارب کی ویلیو ملی
  • پی آئی اے ہر سال 50 ارب کا نقصان کر رہی تھی
  • بہتر انتظام کے بعد یہ کمپنی ٹیکس دے سکتی ہے اور معیشت میں حصہ ڈال سکتی ہے

چند اہم غلط فہمیاں

❌ اگر خریدار پیسہ نہ ڈالے؟

ممکن نہیں۔

  • 83 ارب روپے لازمی ڈالنے ہوں گے
  • سیکیورٹی، بانڈز اور ایل سی موجود ہیں

❌ جہازوں کی قیمت 500 ملین ڈالر ہے؟

غلط۔

  • پرانے جہازوں کی قیمت نئی جیسی نہیں ہوتی
  • تمام جہاز پہلے ہی 190 ارب کے اثاثوں میں شامل ہیں
  • ساتھ 181 ارب کی ذمہ داریاں بھی ہیں

❌ روٹس بہت قیمتی تھے؟

اگر اتنے قیمتی تھے تو اتنا نقصان کیوں ہوا؟
اصل مسئلہ ناقص انتظام تھا۔


📌 حقیقت یہ ہے:

حکومت کا کام کاروبار چلانا نہیں۔
سیاسی مداخلت سے چلنے والے ادارے:

  • نااہلی
  • کرپشن
  • سفارش
  • خسارے
    کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یہ سودا پاکستان کے حق میں ہے۔

Related Articles

Back to top button