بین الاقوامیخبریں

شیخ شکیل: اوورسیز پاکستانی قیادت، خدمت اور قومی وابستگی کی روشن مثال

شیخ شکیل نے گزشتہ چارسے زائد دہائیوں سے نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر میں اوورسیز پاکستانیوں کی نمائندگی، پاکستان کے مثبت تشخص اور کمیونٹی کے اجتماعی مفادات کے لیے مسلسل اور متحرک کردار ادا کیا

شیخ شکیل ایک کامیاب پاکستانی امریکن بزنس مین، سماجی رہنما، کمیونٹی آرگنائزر اور سچے عاشقِ رسول ہیں، جن کی زندگی خدمتِ خلق، قومی وابستگی اور بین المذاہب ہم آہنگی کی عملی تصویر ہے
شیخ شکیل کی پہچان صرف کاروباری کامیابی نہیں، بلکہ کمیونٹی کے لیے ان کی بے لوث خدمات ہیں، نائن الیون کے المناک واقعات کے بعد نازک دور میں شیخ شکیل نے قیادت کا کردار ادا کیا

نیویارک ( اردونیوز) شیخ شکیل کا شمار پاکستانی امریکن کمیونٹی نیویارک کی ان نمایاں سماجی اور کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے گزشتہ چار سے زائد دہائیوں سے نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر میں اوورسیز پاکستانیوں کی نمائندگی، پاکستان کے مثبت تشخص اور کمیونٹی کے اجتماعی مفادات کے لیے مسلسل اور متحرک کردار ادا کیا ہے۔ وہ ایک کامیاب پاکستانی امریکن بزنس مین، سماجی رہنما، کمیونٹی آرگنائزر اور سچے عاشقِ رسول ہیں، جن کی زندگی خدمتِ خلق، قومی وابستگی اور بین المذاہب ہم آہنگی کی عملی تصویر ہے۔انہیں برطانیہ میں فرزند پاکستان کے ایوارڈ کے ساتھ ساتھ امریکہ اور پاکستان میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر اہم ایوارڈز سے نوازا گیا۔ امریکی منتخب قائدین بشمول نیویارک سٹی کونسل ، سٹیٹ اسمبلی ممبرز ، کانگریس ممبرز اور یو ایس سینیٹر کی جانب سے متعدد بارسائٹیشن پیش کرکے ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔پنجاب کے دو گورنرز کی جانب سے بھی شیخ شکیل کو ایوارڈ ز پیش کئے گئے ۔
شیخ شکیل بنیادی طور پر لاہور، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ چار دہائیوں وہ محض 6 ہزار ڈالر کے ساتھ امریکہ آئے۔ یہ وہ وقت تھا جب نہ وسائل تھے، نہ سہولیات، مگر عزم، محنت اور خود اعتمادی ان کا سرمایہ تھا۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک گیس اسٹیشن پر ملازمت سے کیا، پھر الیکٹرانکس کے شعبے میں کام کیا اور بعد ازاں لیموزین ڈرائیور کے طور پر محنت کی۔ بالآخر 2003 میں انہوں نےفریڈم لائن انشورنس کی بنیاد رکھی، جو آج پاکستانی امریکن کمیونٹی میں ایک معتبر اور مستحکم ادارہ شمار ہوتی ہے۔
تاہم شیخ شکیل کی پہچان صرف کاروباری کامیابی نہیں، بلکہ کمیونٹی کے لیے ان کی بے لوث خدمات ہیں۔ نائن الیون کے المناک واقعات کے بعد جب مسلم اور ساؤتھ ایشین کمیونٹی شدید دباؤ، تعصب اور خوف کا شکار تھی، اس نازک دور میں شیخ شکیل نے قیادت کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے ٹاو¿ن ہال میٹنگز، کمیونٹی آو¿ٹ ریچ پروگرامز اور حکومتی اداروں کے ساتھ روابط کے ذریعے نہ صرف کمیونٹی کے مسائل اجاگر کیے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔شیخ شکیل نے ساؤتھ ایشین فاو¿نڈیشن کے پلیٹ فارم سے عامر شیخ اور شیخ لطیف سمیت کمیونٹی کے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر نائن الیون کے بعد کمیونٹی ارکان کی ہر ممکن مدد میں اہم کردار ادا کیا ۔ امیگرنٹس کو ان کے لیگل، رجسٹریشن اور امیگریشن امور میں اہم مدد فراہم کی ۔
شیخ شکیل نے یو ایس امیگریشن سروسز، یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈ ر پٹرول اور ایف بی آئی اور نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے حکام کے ساتھ مل کر کمیونٹی سیمینار منعقد کروائے جو کہ کمیونٹی کے لئے بہت ہی مدد گار اور معاون ثابت ہوئے ۔ اہم ترین سیمینار میریٹ ہوٹل نیویارک میں منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر سہیل مظفر، مجیب لودھی ،امتیاز راہی اور شفیق صدیقی مرحوم سمیت دیگر کے ساتھ مل کر ، منعقد کروایا۔ اس سیمینار میں اہم قانون نافذ کرنیوالی امریکی اداروں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے ۔
شیخ شکیل کی خدمات کا ایک تاریخی سنگِ میل نیویارک سٹی کے سرکاری اسکولوں میں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کو سرکاری تعطیل قرار دلوانا ہے۔ انہوں نے تعلیمی حکام، منتخب نمائندوں اور کمیونٹی لیڈرز کے ساتھ مل کر طویل جدوجہد کی، جس کے نتیجے میں مسلم طلبہ کو اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کا حق ملا۔ یہ کامیابی نہ صرف نیویارک بلکہ پورے امریکہ میں مسلم کمیونٹی کے لیے ایک مثال بن گئی۔
اسی طرح کوئینز میں بچوں کے لیے اسلامی تعلیم کے فروغ، جیکسن ہائٹس میں مسلم کولیشن آف نیویارک کے تحت سالانہ ”پیس واک “کے انعقاد، اور مختلف مذاہب و ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ میں بھی شیخ شکیل کا کردار نمایاں رہا ہے۔ یہ پروگرام آج کمیونٹی اتحاد کی علامت بن چکا ہے۔
شیخ شکیل کی خدمات صرف امریکہ تک محدود نہیں رہیں۔ 2012 میں سمندری طوفان سینڈی کے بعد انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی سرگرمیوں کی قیادت کی۔ پاکستان میں آنے والے زلزلوں اور قدرتی آفات کے بعد بھی وہ اوورسیز سطح پر ریلیف سرگرمیوں میں پیش پیش رہے۔
سال 2023 میں انہوں نے سعودی عرب میں قید پاکستانی شہریوں کی رہائی کے لیے ایک مو¿ثر وفد کی قیادت کی۔ ان کی کاوشیں پاکستانی حکام کے ذریعے اعلیٰ سطح تک پہنچیں اور بالآخر ولی عہد محمد بن سلمان کے شاہی فرمان کے نتیجے میں درجنوں پاکستانی قیدی رہا ہوئے، جو اوورسیز پاکستانی قیادت کی ایک غیر معمولی کامیابی تھی۔

پاکستان سے ان کی محبت اور وطن سے وابستگی کا مظاہرہ اس وقت بھی دیکھنے میں آیا جب وہ نیویارک کے ٹائمز اسکوائر پر پاکستان کے دفاعی اداروں کے حق میں آواز بلند کرتے نظر آئے۔ مختلف ممالک سے آئے تقریباً 150 اوورسیز پاکستانیوں کے ہمراہ ان کی موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ پاکستان، افواجِ پاکستان اور قومی وقار کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ڈیلاویئر یونیورسٹی کمیونٹی کی جانب سے اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی دی گئی۔ اس کے علاوہ 2014 میں پاک،این وائی پی ڈی سوسائٹی نے انہیں 18 سالہ مثالی خدمات پر پولیس آفیسر آف دی ائیر کے اعزاز سے نوازا، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کمیونٹی کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی واضح سند ہے۔
خاندانی سطح پر بھی خدمت کا جذبہ شیخ شکیل کے گھرانے میں رچا بسا ہے۔ ان کے بڑے بھائی عبداللطیف نے 2003 سے 2007 تک جیکسن ہائٹس، کوئینز اور بروکلین کی لائبریریوں میں مفت کمپیوٹر کلاسز کا اہتمام کیا، جہاں 12 سال سے لے کر 81 سال تک کے افراد نے تربیت حاصل کی اور روزگار کے مواقع پائے۔ یہ ایک ایسا دور تھا جب کمپیوٹر تعلیم عام نہیں تھی، اور یہ خدمت آج بھی یاد کی جاتی ہے۔
شیخ شکیل دو بیٹوں، محمد یوسف شکیل اور محمد عبداللہ (کیون) کے والد ہیں۔ محمد یوسف شکیل نے حال ہی میں ییل یونیورسٹی سے ایم بی اے مکمل کیا، جبکہ کیون نے ناسا کاؤنٹی سے امریکی کانگریس کے انتخابات میں حصہ لے کر سیاسی میدان میں کمیونٹی کی نمائندگی کی۔ وہ اپنے بچوں کی تعلیم، کردار اور سماجی شعور پر فخر کرتے ہیں۔
شیخ شکیل نے نیویارک سٹی کونسل اور نیویارک سٹیٹ اسمبلی میں عید ڈے اور پاکستان ڈے کے حوالے سے اہم ایونٹس کے انعقاد میں بھی کردار ادا کیا۔
شیخ شکیل جو کہ اوورسیز پاکستانی گلوبل فاؤنڈیشن ( او پی جی ایف ) کے وائس چئیرمین بھی ہیں ، نے فاؤنڈیشن کے چئیرمین ظہیر اختر مہر کے ساتھ یورپ کا دورہ کیا، اوورسیز کمیونٹی کو یکجا اور متحرک کیا اور فاؤ¿نڈیشن کے زیر اہتمام شیخ شکیل نے اوورسیز پاکستانیوں کے لئے کنونشنز کے انعقاد میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
پاکستان کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے شیخ شکیل اکثر افسوس کا اظہار کرتے ہیں:“1985 کا پاکستان آج کے پاکستان سے بہتر تھا، ہمارے رہنماؤں نے ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دی۔”
شیخ شکیل کی زندگی اس قول کی عملی تفسیر ہے کہ“انسانیت کی خدمت ہی زمین پر ہمارے قیام کا کرایہ ہے۔“
ان کی داستان محض ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک پیغام، ایک تحریک اور ایک راستہ ہے۔ ایک ایسے دور میں جب دنیا تقسیم کا شکار ہے، شیخ شکیل اتحاد، خدمت اور محبت کی ایک مضبوط مثال بن کر ابھرے ہیں،جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

Related Articles

Back to top button