نیویار ک میں جمیل عثمان کی کتاب ”نصف صدی کے قصے“کی تقریب رونمائی
کاروانِ فکر و فن شمالی امریکہ کے زیرِ اہتمام معروف افسانہ نگار جمیل عثمان کی نئی تصنیف ”نصف صدی کے قصے“کی ایک پروقار اور یادگار تقریبِ رونمائی کا انعقاد کیا گیا
معروف ادبی شخصیت مامون ایمن کی صدارت میں منعقدہ تقریب میں نامور دانشور سید تقی عابدی اور ممتاز شاعر رفیع الدین راز کی بطور مہمان اعزازی شرکت، نامور ادیب ، شعراءکی بھی شرکت
انجم خلیل، خالدہ ظہور، عتیق صدیقی، رفیع الدین راز، سید تقی عابدی اور مامون ایمن کے علاوہ سعید نقوی ، الطاف ترمذی نے جمیل عثمان کے طرزِ تحریر، مشاہدے کی گہرائی اور افسانوں میں سماجی سچائیوں کو سراہا
صاحبِ کتاب جمیل عثمان نے اپنی تصنیف سے اپنا ایک نمائندہ اور مقبول افسانہ ”شاہی ٹکڑے“پڑھ کر سنایا، ان کے مخصوص اندازِ بیان اور افسانے کے اچھوتے موضوع کو سامعین نے بھرپور داد سے نوازا
تقریب کے پہلے حصے کی نظامت اویس راجا اور دوسرے حصے کی اعجاز بھٹی نے کی ، قانع ادا نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا، وکیل انصاری کی جانب سے بھی تمام حاضرین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیاگیا
معروف افسانہ نگار سعید نقوی، ممتاز شاعرہ زریں یاسین اور معتبر شاعر الطاف ترمذی شامل تھے، نے صاحبِ کتاب کو مبارکباد پیش کی،افسانہ نگاری کے فروغ کے لیے ان کے عزم کو خراجِ تحسین پیش کیا
ناسا کاونٹی کی طرف سے کاروانِ فکر و فن کے اعجاز حسین بھٹی اور صاحبِ کتاب جمیل عثمان کو ان کی بے لوث اور طویل ادبی خدمات کے صلے میں تعریفی اسناد سے نوازا گیا، عون نقوی نے سائٹیشن پیش کیں
نیویارک (اردو نیوز) کاروانِ فکر و فن شمالی امریکہ کے زیرِ اہتمام اتوار، 7 جون 2026ءکو ویلی اسٹریم، نیویارک کے مقامی ہال (بلخ کباب، افغان چائے خانہ) میں معروف افسانہ نگار جمیل عثمان کی نئی تصنیف ”نصف صدی کے قصے“کی ایک پروقار اور یادگار تقریبِ رونمائی کا انعقاد کیا گیا۔ اس محفل میں نیویارک اور نیو جرسی سمیت دور و نزدیک سے اردو ادب، شعر و سخن اور تنقید سے وابستہ مقتدر اور نامور شخصیات اور ادب دوستوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔پروگرام کے باقاعدہ آغاز سے قبل دور و نزدیک سے آئے ہوئے معزز مہمانوں کی تواضع مختلف اور پرتکلف کھانوں سے کی گئی۔ جس کے بعد کاروانِ فکر و فن کے جوائنٹ سیکرٹری اویس راجا نے مائیک سنبھالا اور باقاعدہ طور پر تقریب کے آغاز کا اعلان کیا۔ انہوں نے تقریب کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے تمام شرکاءکو خوش آمدید کہا۔ محفل کا بابرکت آغاز طارق مسعود کی آواز میں پیش کی گئی انتہائی مدھر نعت پاک ﷺ سے کیا گیا۔
ابتدائی کلمات کے بعد جوائنٹ سیکرٹری اویس راجا نے تنظیم کے جنرل سیکرٹری اعجاز حسین بھٹی کو مائیک پر آنے اور نظامت کے فرائض سنبھالنے کی دعوت دی۔ اعجاز حسین بھٹی نے روایتی ادبی شائستگی کے ساتھ محفل کو آگے بڑھاتے ہوئے صدارتی پینل اور مہمانانِ گرامی کو اسٹیج پر مدعو کیا۔ تقریب کی صدارت معروف ادبی شخصیت مامون ایمن نے فرمائی۔ مہمانِ خصوصی کے طور پر کینیڈا سے خصوصی طور پر تشریف لائے نامور دانشور جناب سید تقی عابدی اور ممتاز شاعر جناب رفیع الدین راز اسٹیج کی زینت بنے۔ ان کے ہمراہ صاحبِ کتاب جناب جمیل عثمان کو بھی اسٹیج پر بٹھایا گیا۔
تقریب کے دوران شعبہ ادب کے ممتاز نقادوں اور دانشوروں نے جمیل عثمان کے افسانوں پر انتہائی مدلل، جامع اور مختصر گفتگو کی اور کتاب کے مختلف فنی و فکری پہلوو¿ں کو اجاگر کیا۔ مقررین میں محترمہ انجم خلیل، پروفیسر خالدہ ظہور، عتیق صدیقی، رفیع الدین راز، سید تقی عابدی اور صاحبِ صدارت مامون ایمن شامل تھے۔ تمام مقررین نے متفقہ طور پر جمیل عثمان کے طرزِ تحریر، ان کے مشاہدے کی گہرائی اور افسانوں میں موجود سماجی سچائیوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔
مہمانِ خصوصی سید تقی عابدی نے اپنے خطاب میں جمیل عثمان کی بچوں کے لیے تخلیق کردہ کتب اور بچوں کے ادب کے حوالے سے ان کی گراں قدر خدمات پر خصوصی اور تفصیلی روشنی ڈالی، جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔
صاحبِ صدارت کے خطبے سے قبل خود صاحبِ کتاب جمیل عثمان نے اپنی اس تازہ تصنیف سے اپنا ایک نمائندہ اور مقبول افسانہ ”شاہی ٹکڑے“پڑھ کر سنایا۔ ان کے مخصوص اندازِ بیان اور افسانے کے اچھوتے موضوع کو سامعین نے بھرپور داد سے نوازا۔
جمیل عثمان کے دیرینہ دوستوں اور ادبی دنیا کے معتبر ناموں جن میں معروف افسانہ نگار سعید نقوی، ممتاز شاعرہ محترمہ زریں یاسین اور معتبر شاعر جناب الطاف ترمذی شامل تھے، نے صاحبِ کتاب کو مبارکباد پیش کی اور اردو افسانہ نگاری کے فروغ کے لیے ان کے عزم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس تقریب کی ایک اور خاص بات نیویارک کی مقامی انتظامیہ کی جانب سے اردو ادب کی پذیرائی تھی۔ ناسا کاو¿نٹی کی طرف سے کاروانِ فکر و فن کے جنرل سیکرٹری اعجاز حسین بھٹی اور صاحبِ کتاب جمیل عثمان کو ان کی بے لوث اور طویل ادبی خدمات کے صلے میں تعریفی اسناد سے نوازا گیا، جو کہ امریکہ میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ایک باعثِ فخر اعزاز ہے۔
پروگرام کے آخری مراحل میں کاروانِ فکر و فن کی نائب صدر محترمہ قانع ادا نے اسٹیج پر آ کر تمام معزز مہمانوں، دور دراز سے آئے ہوئے قلم کاروں اور شرکاءکا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی موجودگی سے تقریب کو رونق بخشی۔ آخر میں تنظیم کے روحِ رواں وکیل انصاری نے تنظیم کی جانب سے تمام حاضرین اور معاونین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اس طرح یہ یادگار، انتہائی منظم اور پروقار تقریب اپنے دامن میں علم و ادب کی بے شمار خوشگوار یادیں سمیٹے ہوئے اپنے اختتام کو پہنچی۔


