میڈی کئیر اور میڈی کیڈ؛ پاکستانی امریکن کے لیے ایک آسان رہنمائی
میڈی کیئر عمر یا مخصوص معذوری کی بنیاد پر فراہم کیا جانے والا وفاقی صحت بیمہ پروگرام ہے، جبکہ میڈی کیڈ کم آمدنی رکھنے والے افراد اور خاندانوں کے لیے صحت کی سہولیات فراہم کرتا ہے
مختصراً اگر فرق بیان کیا جائے تو میڈیکیئر عمر یا مخصوص معذوری کی بنیاد پر فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ میڈیکیڈ کا انحصار بنیادی طور پر آمدنی پر ہوتا ہے۔ میڈیکیئر وفاقی حکومت کا پروگرام ہے، جبکہ میڈیکیڈ وفاقی اور ریاستی حکومتوں کا مشترکہ پروگرام ہے
خصوصی مضمون ۔۔۔ سید انور شاہ واسطی (نیویارک )
امریکہ میں رہنے والے بہت سے پاکستانی نڑاد بزرگ جب 65 سال کی عمر کو پہنچتے ہیں تو ان کے ذہن میں ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ میڈی کیئر کیا ہے، میڈی کیڈ کیا ہے، دونوں میں کیا فرق ہے؟ اور انہیں کون سا پروگرام مل سکتا ہے؟ درحقیقت یہ دونوں صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے الگ الگ پروگرام ہیں، لیکن بعض افراد اپنی عمر اور آمدنی کی بنیاد پر دونوں کے اہل بھی ہو سکتے ہیں۔ میڈی کیئر عمر یا مخصوص معذوری کی بنیاد پر فراہم کیا جانے والا وفاقی صحت بیمہ پروگرام ہے، جبکہ میڈی کیڈ کم آمدنی رکھنے والے افراد اور خاندانوں کے لیے صحت کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔
میڈیکیئر امریکہ کی وفاقی حکومت کا صحت بیمہ پروگرام ہے، جو بنیادی طور پر 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بعض معذور افراد اور مخصوص بیماریوں میں مبتلا لوگ بھی اس پروگرام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کا مقصد بزرگ شہریوں اور اہل افراد کو علاج معالجے کے اخراجات میں مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
میڈیکیئر کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ مختلف طبی ضروریات کو الگ الگ انداز میں پورا کیا جا سکے۔ پہلا حصہ، پارٹ اے، اسپتال میں داخلے اور اس سے متعلق سہولیات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس میں اسپتال میں داخلہ، ماہر نرسنگ سہولت، ہاسپس کیئر اور محدود ہوم ہیلتھ کیئر شامل ہیں۔ زیادہ تر وہ افراد جنہوں نے تقریباً دس سال تک امریکہ میں کام کرتے ہوئے میڈیکیئر ٹیکس ادا کیا ہو، انہیں اس حصے کے لیے الگ ماہانہ پریمیم ادا نہیں کرنا پڑتی۔
پارٹ بی روزمرہ طبی سہولیات کے لیے ہوتا ہے۔ اس کے تحت ڈاکٹر سے معائنہ، ماہر ڈاکٹر کی خدمات، لیبارٹری ٹیسٹ، ایکسرے، ایمبولینس، آو¿ٹ پیشنٹ علاج اور احتیاطی طبی معائنے شامل ہوتے ہیں۔ اس حصے کے لیے عام طور پر ماہانہ پریمیم ادا کرنا پڑتی ہے اور بعض صورتوں میں اس کی رقم آمدنی کے مطابق کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔
پارٹ سی، جسے میڈیکیئر ایڈوانٹیج بھی کہا جاتا ہے، نجی انشورنس کمپنیوں کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے۔ اس میں عام طور پر پارٹ اے، پارٹ بی اور اکثر پارٹ ڈی شامل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے منصوبوں میں دانتوں کا علاج، بینائی، سماعت اور بعض صورتوں میں سفری سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ تاہم ایسے منصوبوں میں مخصوص ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے نیٹ ورک کی پابندی ہوتی ہے، اس لیے علاج سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کا ڈاکٹر یا اسپتال اس منصوبے میں شامل ہے یا نہیں۔
پارٹ ڈی صرف نسخے والی ادویات کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اگر کوئی شخص پہلی مرتبہ اہل ہونے کے باوجود وقت پر اس حصے میں شامل نہ ہو تو بعد میں بعض حالات میں اسے تاخیر سے اندراج کی اضافی فیس یا جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
میڈیکیئر کی ایک اور شکل اوریجنل میڈیکیئر کہلاتی ہے، جس میں صرف پارٹ اے اور پارٹ بی شامل ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ضرورت کے مطابق لوگ پارٹ ڈی یا میڈی گیپ، جسے میڈیکیئر سپلیمنٹ بھی کہا جاتا ہے، خرید سکتے ہیں تاکہ علاج کے دوران اپنی جیب سے ادا کیے جانے والے اخراجات کم کیے جا سکیں۔
ہر نئے میڈیکیئر صارف کو ایک اہم فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اوریجنل میڈیکیئر اختیار کرے یا میڈیکیئر ایڈوانٹیج۔ اوریجنل میڈیکیئر کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ امریکہ بھر میں زیادہ تر ایسے ڈاکٹرز اور اسپتالوں سے علاج کرایا جا سکتا ہے جو میڈیکیئر قبول کرتے ہیں۔ اگر اس کے ساتھ میڈی گیپ بھی شامل کر لیا جائے تو ذاتی اخراجات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، تاہم اس میں دانتوں، بینائی اور سماعت جیسی اضافی سہولیات عام طور پر شامل نہیں ہوتیں۔
دوسری جانب میڈیکیئر ایڈوانٹیج ایک ہی منصوبے میں متعدد سہولیات فراہم کرتا ہے اور اکثر اضافی فوائد بھی شامل ہوتے ہیں۔ بعض علاقوں میں اس کی ماہانہ لاگت بھی کم ہوتی ہے، لیکن اس کے ساتھ مخصوص ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے نیٹ ورک کی پابندی اور ہر منصوبے کے اپنے کو پے، کو انشورنس اور دیگر قواعد ہوتے ہیں۔
میڈی گیپ ایک اضافی بیمہ ہے جو صرف اوریجنل میڈیکیئر کے ساتھ لیا جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد ایسے اخراجات میں مدد فراہم کرنا ہے جن میں ڈیڈکٹبل، کو پے منٹ اور کو انشورنس شامل ہیں، تاکہ مریض کو اپنی جیب سے کم رقم ادا کرنا پڑے۔
زیادہ تر افراد کے لیے میڈیکیئر میں ابتدائی اندراج کی مدت سات ماہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس میں 65 سال کی عمر مکمل ہونے سے تین ماہ پہلے، پیدائش کا مہینہ اور اس کے بعد تین ماہ شامل ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اسی مدت کے دوران اندراج کرنا بہتر ہوتا ہے تاکہ بعد میں کسی قسم کی اضافی فیس یا مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اگر کوئی شخص 65 سال کی عمر کے بعد بھی ملازمت کر رہا ہو اور اس کے آجر کی جانب سے مناسب صحت بیمہ فراہم کیا جا رہا ہو تو بعض حالات میں میڈیکیئر پارٹ بی میں اندراج مو¿خر کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ فیصلہ ہر فرد کی صورت حال پر منحصر ہوتا ہے، اس لیے سوشل سیکیورٹی یا کسی مستند میڈیکیئر مشیر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
میڈیکیڈ ایک الگ پروگرام ہے جو کم آمدنی رکھنے والے افراد اور خاندانوں کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس پروگرام کا انتظام وفاقی اور ریاستی حکومتیں مشترکہ طور پر کرتی ہیں، اسی لیے اس کے قواعد اور سہولیات ہر ریاست میں مختلف ہو سکتی ہیں۔
مختصراً اگر فرق بیان کیا جائے تو میڈیکیئر عمر یا مخصوص معذوری کی بنیاد پر فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ میڈیکیڈ کا انحصار بنیادی طور پر آمدنی پر ہوتا ہے۔ میڈیکیئر وفاقی حکومت کا پروگرام ہے، جبکہ میڈیکیڈ وفاقی اور ریاستی حکومتوں کا مشترکہ پروگرام ہے۔ میڈیکیئر زیادہ تر 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے ہے، جبکہ میڈیکیڈ ہر عمر کے اہل افراد کو مل سکتا ہے اگر وہ مقررہ آمدنی کی شرائط پوری کرتے ہوں۔
امریکہ میں صحت بیمہ کا نظام بظاہر پیچیدہ ضرور محسوس ہوتا ہے، لیکن اگر اس کی بنیادی معلومات حاصل کر لی جائیں تو درست فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اگر آپ یا آپ کے والدین 65 سال کی عمر کے قریب ہیں یا جلد ریٹائر ہونے والے ہیں تو کسی بھی میڈیکیئر منصوبے کا انتخاب کرنے سے پہلے مکمل معلومات ضرور حاصل کریں۔ صحیح انتخاب نہ صرف بہتر طبی سہولیات تک رسائی فراہم کرتا ہے بلکہ مستقبل میں ہزاروں ڈالر کے غیر ضروری طبی اخراجات سے بھی بچا سکتا ہے۔
Medicare vs. Medicaid: A Simple Guide for Pakistani Americans
A simple guide explaining the key differences between Medicare and Medicaid for Pakistani Americans. Medicare is a federal health insurance program primarily for people aged 65 and older or those with certain disabilities, while Medicaid provides health coverage for low-income individuals and families through a joint federal and state program.



