پاکستانکالم و مضامین

پاکستان صرف ایک خطہ زمین کا نام نہیں، یہ لاکھوں قربانیوں کا امین ہے

بیرونِ ملک بیٹھا ہر اوورسیز پاکستانی مادر وطن، اس کے ریاستی اداروں کے تقدس کو حب الوطنی کا جزو مانتا ہے ، ہمارے لیے پاکستان کی مٹی اور اس کی فوج کی حرمت سے بڑھ کر کچھ نہیں

خصوصی مضمون : ظہیر اختر مہر۔۔۔ نیویارک

باہر کی دنیا میں، ہزاروں میل دور دیس سے کٹا ہوا ایک اوورسیز پاکستانی جب روزِ روشن کی طرح یہ دیکھتا ہے کہ جس وطن کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ماو¿ں کے لعل ہنستے ہنستے جانیں نچھاور کر دیتے ہیں، اسی پاک دھرتی کے محافظوں کی قربانیوں کو محض ذاتی مفادات اور اقتدار کی ہوس کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے، تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔
پاکستان صرف ایک خطہ زمین کا نام نہیں، یہ لاکھوں قربانیوں کا امین ہے، لیکن آج المیہ یہ ہے کہ سیاسی جنگ میں اخلاقیات کے تمام دائرے توڑ دیے گئے ہیں۔ کیا اقتدار کا حصول اتنا مقدس ہو گیا ہے کہ اس کے لیے اس جوان کی قربانی کو بھی پاو¿ں تلے روند ڈالا جائے جس کی لاش جب تابوت میں لپٹ کر گھر پہنچتی ہے تو بوڑھے باپ کا سہارہ ٹوٹ جاتا ہے، ماں کی گود اجڑ جاتی ہے، بہن کا محافظ چھن جاتا ہے، معصوم بچے یتیم ہو جاتے ہیں اور جوان بیوی کا سہاگ اجڑ جاتا ہے؟
یہی وہ المناک حقیقت ہے جو دل کو چھلنی کرتی ہے۔ جب یہی سیاست دان اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہوتے ہیں تو ریاستی اور قومی سلامتی کے یہی ادارے ان کے لیے مقدس بن جاتے ہیں، اور ان کے ترجمانی کرتے نہیں تھکتے؛ مگر جونہی کرسی ہاتھ سے نکلتی ہے، تو وہ دشمن کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ جب وطن کے لیے جان دینے والے شہداءپر تنقید کے تیر برسائے جاتے ہیں ، تو ان کے پسماندگان کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی۔ بیرونِ ملک بیٹھا ہر اوورسیز پاکستانی اس تڑپ کو محسوس کرتا ہے، کیونکہ ہمارے لیے پاکستان کی مٹی اور اس کی فوج کی حرمت سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی معاشرے میں ظلم، الزام تراشی اور منافقت انتہا کو پہنچتی ہے، تو انسانیت اپنے اخلاقی زوال کی بدترین شکل دکھاتی ہے۔ اس مکروہ رویے کی یاد ہمیں تاریخ کے اس زریں اور سبق آموز واقعے کی طرف لے جاتی ہے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں ایک معاشرہ اپنے ہی بچھائے ہوئے اخلاقی جال میں پھنس گیا تھا۔ جب چند سخت گیر اور خود کو پارسا سمجھنے والے لوگ ایک عورت کو زنا کے الزام میں سنگ سار (پتھر مار کر ہلاک) کرنے کے لیے لائے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے حکم مانگا، تو انہوں نے کوئی جذباتی تقریر کرنے کے بجائے ایک ایسا جملہ کہا جو صدیوں سے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”جو تم میں بے گناہ ہو، وہی پہلے اسے پتھر مارے۔“
یہ ایک ایسا جملہ تھا جس نے پتھر اٹھانے والوں کے ہاتھ روک دیے۔ بڑے بوڑھوں سے لے کر نوجوانوں تک، سب کے ضمیر جاگ اٹھے کیونکہ کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا جو اپنے دامن کو داغ سے پاک کہہ سکتا ہو۔ سب شرمندہ ہو کر ایک ایک کر کے کھسک گئے، کیونکہ خود پرستی اور گناہوں کا بوجھ اٹھائے کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسروں پر سنگ باری کرے۔
آج سیاست دانوں اور مفاد پرست رہنماو¿ں کو بھی اس تاریخی سچائی سے سبق سیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ جو لوگ اقتدار کی ہوس میں شہداءکی قربانیوں کو تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں، کیا ان کا اپنا دامن جرائم، نفاق اور خودغرضی سے پاک ہے؟
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذاتی کرسی اور جماعتوں سے بالاتر ہو کر پاکستان اور اس کے محافظوں کی عزت و تکریم کو مقدم رکھیں۔ اگر ہم نے آج اس بے حسی کو نہ روکا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی، اور ضمیر کی عدالت میں ہر وہ شخص کٹہرے میں ہوگا جس نے اپنے ہی گھر کی بنیادوں میں آگ لگائی۔

(نوٹ: مضمون نویس ظہیر اختر مہر ، اوورسیز پاکستانیز گلوبل فاو¿نڈیشن کے بانی چئیرمین ہیں)

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے