”پاکستانی وومین “ پاکستانی خواتین کے حقوق اور مسائل پر محمد عاصم گوندل کی اہم کتاب، علی لودھرا کی مبارکباد
محمد عاصم گوندل ایڈوکیٹ کو پاکستانی خواتین کے حقوق اور مسائل پر ”پاکستانی وومین “ کتاب لکھنے پر مبارکباد ،علی لودھرا
پاکستانی خواتین کے حقوق اور مسائل پر محمد عاصم گوندل کی اہم کتاب، علی لودھرا کی مبارکباد
محمد عاصم گوندل ایڈوکیٹ کو ”پاکستانی وومین “ کتاب لکھنے پر مبارکباد ، پاکستانی قوم اور معاشرے کے اہم جزو یعنی کے خواتین کے حقوق، معاملات سمیت دیگر امورکو مدلل اندازمیں اجاگر کیا ہے
ہم امریکہ آمد پر علی لودھرا کو نہ صرف خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کا خیر مقدم کرتے ہیںبلکہ پاکستانی امریکن کمیونٹی اور دوست احباب کی جانب سے بھی انہیں کتاب کی مبارکباد پیش کرتے ہیں،علی لودھرا
پاکستانی خواتین کی ترقی سے پاکستان بطور ملک ، ریاست اور معاشرہ ترقی کرے گا اور اس سلسلے میں خواتین کو ان کے حقوق کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دی جانی چاہئیے ، علی لودھرا
نیویارک (اردونیوز) پاکستانی امریکن کمیونٹی نیویارک کی معروف سماجی شخصیت علی لودھرا نے معروف قانون دان اور مصنف محمد عاصم گوندل ایڈووکیٹ کو ان کی کتاب ”پاکستانی وومین“ کی تصنیف پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے پاکستانی معاشرے کے ایک نہایت اہم اور بنیادی موضوع، یعنی خواتین کے حقوق، مسائل اور معاشرتی کردار، پر ایک عمدہ اور معلوماتی کتاب تحریر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد عاصم گوندل اس اہم علمی اور سماجی کاوش پر مبارکباد کے مستحق ہیں اور پاکستانی امریکن کمیونٹی کو ان کی اس کاوش پر فخر ہے۔
علی لودھرا نے کہا کہ خواتین کسی بھی معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور پاکستان میں بھی خواتین آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہیں۔ وہ خاندان، تعلیم، معیشت، معاشرتی ترقی اور ملک کی مجموعی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی خواتین کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے خواتین کو ان کے بنیادی، قانونی اور معاشرتی حقوق کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ”پاکستانی وومین“ میں خواتین سے متعلق متعدد اہم موضوعات کو ایک جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس سے قارئین کو پاکستانی خواتین کی صورتحال، ان کے حقوق، درپیش مشکلات اور معاشرے میں ان کے کردار کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں خواتین کے معاملات کو صرف ایک زاویے سے نہیں دیکھا گیا بلکہ قانونی، سماجی اور ثقافتی پہلوو¿ں کو بھی موضوع بحث بنایا گیا ہے۔
علی لودھرا نے کہا کہ خواتین کے حقوق اور ان کے مسائل پر گفتگو صرف خواتین تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ اگر خواتین کو تعلیم، روزگار، معاشی مواقع، قانونی تحفظ اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مساوی مواقع حاصل ہوں تو اس کے مثبت اثرات ان کے خاندانوں اور پوری کمیونٹی تک پہنچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی تعلیم اور بااختیار بنانے کے نتیجے میں آنے والی نسلوں کے لیے بھی بہتر مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے محمد عاصم گوندل کی کتاب کے مختلف موضوعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خاندانی قوانین، تعلیم، روزگار، سیاسی شرکت، خواتین کے خلاف تشدد، انصاف تک رسائی، سماجی رویے اور خواتین کو بااختیار بنانے جیسے موضوعات پاکستان میں خواتین کی صورتحال کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں۔ ان کے مطابق ایسے موضوعات پر معلوماتی اور سنجیدہ گفتگو معاشرے میں آگاہی پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
محمد عاصم گوندل نے کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر بتایا تھا کہ ”پاکستانی وومین“ لکھنے کا بنیادی مقصد پاکستان میں خواتین سے متعلق مختلف پہلوؤں کو ایک جامع انداز میں سامنے لانا ہے۔ ان کے مطابق بعض اوقات خواتین کے قانونی حقوق پر الگ بات ہوتی ہے جبکہ سماجی اور ثقافتی مسائل پر الگ بحث کی جاتی ہے، اسی لیے انہوں نے کتاب میں ان مختلف پہلوؤں کو ایک ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
عاصم گوندل کے مطابق کتاب میں خواتین کو درپیش مسائل کے ساتھ ساتھ ممکنہ اصلاحات اور مثبت پیش رفت کے امکانات کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں، ثقافتوں اور سماجی حالات کی وجہ سے خواتین کے تجربات اور مسائل بھی ایک جیسے نہیں، اس لیے ان معاملات کو مختلف علاقائی اور معاشرتی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
علی لودھرا نے مزید کہا کہ ”پاکستانی وومین“ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ خواتین کے حقوق اور معاشرے میں ان کے مقام کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کی ایک کوشش بھی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کتاب طلبہ، اساتذہ، قانونی ماہرین، محققین، سماجی کارکنوں اور عام قارئین کے لیے مفید ثابت ہوگی اور خواتین کے مسائل پر مزید سنجیدہ گفتگو کو فروغ دے گی۔
کتاب کی نیویارک میں تقریب رونمائی کا اہتمام کاشف مجید گوندل نے کیا تھا، جس میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کی متعدد اہم شخصیات، قانون دانوں، سماجی رہنماؤں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب میں علی لودھرا کے علاوہ سلمان افتخار، بلال اشرف، راجہ ساجد وکیل، حافظ کاشف مجید، چوہدری مولا، اویس قادر، ذیشان خان، علی وینس اور خورشید احمد بھلی سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔
علی لودھرا نے محمد عاصم گوندل کو امریکہ آمد پر بھی خوش آمدید کہا اور پاکستانی امریکن کمیونٹی اور دوست احباب کی جانب سے انہیں کتاب کی اشاعت پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی خواتین کو اپنے حقوق اور دستیاب مواقع کے بارے میں آگاہ کرنا اور انہیں آگے بڑھنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ایک مشترکہ سماجی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی خواتین کی ترقی سے پاکستان بطور ملک، ریاست اور معاشرہ بھی ترقی کرے گا اور اس مقصد کے لیے خواتین کی تعلیم، قانونی آگاہی، معاشی خودمختاری اور معاشرے میں باعزت شرکت کو اہمیت دینا ضروری ہے۔



