خیبر پختونخوا میں گورنر راج: کیا سیاسی اختلاف کا حل جمہوریت کی معطلی ہے؟
سیاسی مخالف کو شکست، انتخابات میں دیں، عدالت میں مقدمہ قانون کے مطابق لڑیں، لیکن عوام کے مینڈیٹ کو سیاسی اختلاف کی سزا نہ بنائیں
پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک افسوس ناک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے۔ ہمارے ہاں سیاسی اختلافات کو جمہوری انداز میں حل کرنے کے بجائے اکثر طاقت، انتظامی اقدامات اور سیاسی مخالفین کو کمزور کرنے کی کوششوں سے حل کرنے کی روایت رہی ہے
سیاسی مخالف کو شکست، انتخابات میں دیں، عدالت میں مقدمہ قانون کے مطابق لڑیں، لیکن عوام کے مینڈیٹ کو سیاسی اختلاف کی سزا نہ بنائیں
خصوصی مضمون ۔۔۔سید انور واسطی ( نیویارک، امریکہ)
پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک افسوس ناک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے۔ ہمارے ہاں سیاسی اختلافات کو جمہوری انداز میں حل کرنے کے بجائے اکثر طاقت، انتظامی اقدامات اور سیاسی مخالفین کو کمزور کرنے کی کوششوں سے حل کرنے کی روایت رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے اقدامات وقتی طور پر کسی حکومت کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں، لیکن طویل مدت میں نہ جمہوریت مضبوط ہوتی ہے، نہ سیاسی استحکام پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی عوام کے بنیادی مسائل حل ہوتے ہیں۔
آج خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ نے ایک مرتبہ پھر یہی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی صوبائی حکومت کو اس انداز میں ہٹانا پاکستان کے سیاسی مسائل کا مناسب حل ہے؟میرے نزدیک اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔
سیاسی اختلاف اپنی جگہ، عوام کا مینڈیٹ اپنی جگہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف کو گزشتہ انتخابات میں واضح اکثریت حاصل ہوئی تھی۔ صوبے کے عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے ایک سیاسی جماعت کو حکومت بنانے کا اختیار دیا۔یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان شدید سیاسی اختلافات رہے ہیں۔ صوبے میں دہشت گردی، امن و امان اور انتظامی معاملات بھی سنگین چیلنج ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
وفاقی حکومت کا مو¿قف ہے کہ صوبائی انتظامیہ دہشت گردی کے خلاف مطلوبہ تعاون فراہم نہیں کر رہی تھی اور حالات غیر معمولی اقدامات کے متقاضی ہو چکے تھے۔یہ مو¿قف بھی سنجیدگی سے سننے اور اس کے شواہد کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔لیکن اس کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے: کیا ان مسائل کا حل ایک منتخب صوبائی حکومت کو ہٹا کر گورنر راج نافذ کرنا تھا، یا وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون، مذاکرات اور آئینی اداروں کے ذریعے کوئی بہتر راستہ تلاش کیا جا سکتا تھا؟آئین میں کسی اختیار کا موجود ہونا اور اس اختیار کا سیاسی طور پر دانش مندانہ استعمال ہونا دو الگ باتیں ہیں۔
عمران خان کے لیے خصوصی رعایت نہیں، قانونی حقوق
پاکستان تحریکِ انصاف کے احتجاج اور مطالبات کے حوالے سے بھی ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔عمران خان اس وقت جیل میں ہیں۔ ان کے خلاف مقدمات اور عدالتی کارروائیاں اپنی جگہ ہیں۔ ان کی قانونی حیثیت کا فیصلہ کسی سیاسی جماعت، حکومت یا سڑکوں پر موجود ہجوم نے نہیں بلکہ آزاد اور غیر جانب دار عدالتوں نے کرنا ہے۔تاہم کسی شخص کے جیل میں ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے بنیادی انسانی اور قانونی حقوق ختم ہو گئے ہیں۔اگر عمران خان کی صحت کے حوالے سے سنجیدہ خدشات موجود ہیں تو انہیں مناسب طبی معائنہ، ضروری علاج اور قانون کے مطابق اپنے وکلا سے ملاقات کی سہولت ملنی چاہیے۔
اسی طرح خاندان اور معالجین سے ملاقات کے معاملات بھی متعلقہ قوانین اور عدالتی احکامات کے مطابق طے ہونے چاہییں۔یہ کسی سیاسی رہنما کے لیے خصوصی مراعات کا مطالبہ نہیں بلکہ قانون کی بالادستی کا تقاضا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ عمران خان کو مقدمات کا سامنا کیے بغیر رہا کر دیا جائے۔ اگر ان پر الزامات ہیں تو ان کی آزادانہ اور منصفانہ سماعت ہونی چاہیے۔ اگر جرم ثابت ہو تو قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے، اور اگر الزامات ثابت نہ ہوں تو انہیں قانونی ریلیف ملنا چاہیے۔انصاف کا مطلب کسی کو سزا سے بچانا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔
یہ اصول عمران خان کے لیے بھی ہونا چاہیے اور ان کے سیاسی مخالفین کے لیے بھی۔جنرل مشرف کا دور اور میاں برادران کی جلاوطنی مجھے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اور دور یاد آتا ہے۔
جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا اور میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کو جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا تو میں نے اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔
اس وقت میرا مو¿قف یہی تھا کہ اگر میاں نواز شریف یا ان کے خاندان کے خلاف کوئی قانونی مقدمہ ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔ ثبوت فراہم کیے جائیں، انہیں دفاع کا پورا موقع دیا جائے اور پھر عدالت قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔کسی سیاسی رہنما کو اقتدار سے ہٹا کر ملک سے باہر بھیج دینا سیاسی مسائل کا مستقل حل نہیں ہو سکتا۔
میں نے اس دور میں مسلم لیگ (ن) کی حمایت بھی اسی اصولی بنیاد پر کی تھی کہ سیاسی اختلافات کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ طاقت کے ذریعے۔
بعد میں تاریخ نے دکھایا کہ میاں نواز شریف وطن واپس آئے، سیاست میں دوبارہ فعال ہوئے اور ایک مرتبہ پھر اقتدار تک پہنچے۔یہ تجربہ ہمیں ایک اہم سبق دیتا ہے۔سیاسی مخالفین کو وقتی طور پر اقتدار سے دور کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کے سیاسی نظریات اور عوامی حمایت کو محض انتظامی فیصلوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔آج اگر یہی اصول عمران خان اور تحریکِ انصاف کے معاملے میں سامنے آ رہا ہے تو ہمیں اپنی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر وہی مو¿قف اختیار کرنا چاہیے۔اصول اس وقت تک اصول نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے مخالف کے لیے بھی یکساں طور پر نافذ نہ ہو۔
کیا گورنر راج سے امن و امان بہتر ہو جائے گا؟
خیبر پختونخوا کو دہشت گردی اور سرحدی سلامتی کے حوالے سے حقیقی اور سنگین مسائل کا سامنا ہے۔سکیورٹی فورسز کی قربانیاں، عام شہریوں کی مشکلات اور دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے دکھ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ریاست کی پہلی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا گورنر راج نافذ کرنے سے دہشت گردی کے بنیادی اسباب ختم ہو جائیں گے؟
کیا اس فیصلے سے سرحدی نگرانی بہتر ہو جائے گی؟ کیا مقامی پولیس اور انتظامیہ کی استعداد خودبخود بڑھ جائے گی؟ کیا شدت پسندی کے معاشی، سماجی اور علاقائی اسباب ختم ہو جائیں گے؟
میرے نزدیک ان سوالات کے جواب محض گورنر راج میں تلاش نہیں کیے جا سکتے۔
اس کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی درکار ہے جس میں وفاقی اور صوبائی اداروں کا تعاون، بہتر انٹیلی جنس، پولیس کی استعداد، مقامی آبادی کا اعتماد، معاشی مواقع اور مو¿ثر انتظامی اصلاحات شامل ہوں۔
منتخب صوبائی نمائندے اپنے علاقوں کے عوام، ان کی مشکلات اور مقامی حالات سے براہِ راست واقف ہوتے ہیں۔ ان کے اس کردار کو نظر انداز کرنا بعض حالات میں عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلے بڑھا سکتا ہے۔
اس لیے گورنر راج کے نفاذ کے بعد بھی اصل سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ امن و امان بہتر بنانے کا عملی منصوبہ کیا ہے اور اس کی کامیابی کو کس بنیاد پر جانچا جائے گا؟
معیشت کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔
پاکستان پہلے ہی معاشی دباو¿، بے روزگاری، مہنگائی اور سرمایہ کاری کے مسائل سے دوچار ہے۔ایسے حالات میں سیاسی محاذ آرائی کا مزید بڑھنا معاشی اعتماد کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
سرمایہ کار سیاسی استحکام، قانون کی یکساں عمل داری اور پالیسیوں کے تسلسل کو اہمیت دیتے ہیں۔اگر وفاق اور صوبوں کے درمیان سیاسی کشمکش مسلسل بڑھتی رہے تو اس کے اثرات کاروباری ماحول، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ صرف گورنر راج کے نفاذ سے معیشت لازماً خراب ہو جائے گی، لیکن یہ بھی واضح نہیں کہ اس اقدام سے معاشی مسائل کیسے حل ہوں گے۔
حکومت کو اس فیصلے کے آئینی جواز کے ساتھ ساتھ اس کے عملی نتائج بھی عوام کے سامنے رکھنے چاہیے۔
آئینی اختیار اور جمہوری ذمہ داری
پاکستان کے آئین میں ہنگامی حالات اور صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کی صورت میں وفاقی مداخلت کی گنجائش موجود ہے۔اس لیے ہر گورنر راج کو محض اس کی نوعیت کی بنیاد پر غیر آئینی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔لیکن ایسے غیر معمولی اختیارات کا استعمال سخت آئینی شرائط، قابلِ جانچ شواہد، عدالتی نگرانی اور پارلیمانی احتساب کے تابع ہونا چاہیے۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ واضح کرے کہ یہ اقدام کیوں ناگزیر تھا، اس کے متبادل راستے کیوں ناکافی سمجھے گئے اور صوبے میں منتخب حکومت کی بحالی کے لیے کیا شرائط اور لائحہ عمل ہوگا۔
اسی طرح تحریکِ انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے احتجاج کو پ±رامن اور آئینی حدود میں رکھیں اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ ضروری تعاون کو سیاسی اختلاف کی نذر نہ کریں۔جمہوریت صرف حکومت کا نام نہیں بلکہ حکومت اور حزبِ اختلاف، دونوں کی ذمہ داریوں کا نام ہے۔
مسلم لیگ (ن) سے ایک اصولی گزارش
میں نے ماضی میں مسلم لیگ (ن) کی حمایت اس وقت کی تھی جب اس کی قیادت کو غیر جمہوری اقدامات کا سامنا تھا۔آج اسی جماعت کی قیادت میں قائم وفاقی حکومت کے سامنے بھی یہی اصول رکھنا چاہتا ہوں۔جن اقدامات کو ہم اپنے خلاف ہونے پر غیر منصفانہ سمجھتے ہیں، انہیں اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرتے وقت بھی اسی معیار پر پرکھنا چاہیے۔
اگر ماضی میں میاں نواز شریف کی جلاوطنی ایک غلط سیاسی روایت تھی تو آج بھی کسی سیاسی مخالف کو آئینی اور قانونی عمل سے ہٹ کر کمزور کرنے کی کوشش درست نہیں ہو سکتی۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی سیاسی جماعت کو قانون سے بالاتر سمجھ لیا جائے۔تحریکِ انصاف ہو، مسلم لیگ (ن) ہو، پیپلز پارٹی ہو یا کوئی دوسری جماعت، سب کو ایک ہی آئینی اور قانونی معیار پر پورا اترنا چاہیے۔
آخری بات: پاکستان کو سیاسی انتقام نہیں، سیاسی مفاہمت چاہیے۔
میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے سے اصولی اختلاف کرتا ہوں اور اسے ایک افسوس ناک سیاسی پیش رفت سمجھتا ہوں۔میری رائے میں وفاقی حکومت کو اس انتہائی اقدام کے بجائے مذاکرات، آئینی اداروں کے ذریعے تعاون اور امن و امان کی مشترکہ حکمتِ عملی کو ترجیح دینی چاہیے تھی۔اگر حکومت کے پاس ایسے ٹھوس شواہد ہیں جو اس فیصلے کو ناگزیر ثابت کرتے ہیں تو انہیں مناسب آئینی اور قانونی فورمز پر پیش کیا جانا چاہیے۔پاکستان کو اس وقت سیاسی کشیدگی میں اضافے کے بجائے قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔
عمران خان سمیت ہر قیدی کے قانونی اور طبی حقوق کا احترام ہونا چاہیے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو منصفانہ عدالتی عمل پر اعتماد کا موقع ملنا چاہیے۔ اور خیبر پختونخوا کے عوام کے منتخب نمائندوں کو آئینی نظام میں ان کا جائز مقام واپس دینے کے لیے واضح راستہ ہونا چاہیے۔
تاریخ نے ہمیں بار بار بتایا ہے کہ طاقت کے ذریعے سیاسی اختلافات کو دبانے سے مسائل مستقل طور پر حل نہیں ہوتے۔حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں بھی آتی ہیں اور حزبِ اختلاف میں بھی بیٹھتی ہیں، لیکن آئین، انصاف اور عوام کے حقِ حکمرانی کا احترام مستقل رہنا چاہیے۔
میرا مو¿قف کل بھی یہی تھا، آج بھی یہی ہے:سیاسی مخالف کو شکست، انتخابات میں دیں، عدالت میں مقدمہ قانون کے مطابق لڑیں، لیکن عوام کے مینڈیٹ کو سیاسی اختلاف کی سزا نہ بنائیں۔
سید انور واسطی
نیویارک، امریکہ
11 اکتوبر 2026


