تماشا سیزن 5 ، ہم اپنی نئی نسل کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟
خصوصی مضمون۔۔۔سید انور شاہ واسطی(نیویارک)
اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر ہونے والا پروگرام تماشا سیزن فائیویقیناً پاکستان کے مقبول پروگراموں میں شمار ہوتا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ اسے دیکھتے ہیں۔ لیکن اس پروگرام کا ایک پہلو ایسا ہے جس پر بحیثیت پاکستانی ہمیں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے
خصوصی مضمون۔۔۔سید انور شاہ واسطی(نیویارک)

اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر ہونے والا پروگرام تماشا سیزن فائیویقیناً پاکستان کے مقبول پروگراموں میں شمار ہوتا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ اسے دیکھتے ہیں۔ لیکن اس پروگرام کا ایک پہلو ایسا ہے جس پر بحیثیت پاکستانی ہمیں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔میں تقریباً 45 سال سے امریکہ میں رہ رہا ہوں۔ یہاں رہتے ہوئے بھی میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ اپنے بچوں کو اپنی دینی اور معاشرتی اقدار سے جوڑے رکھوں۔ انہیں بتایا کہ ہماری صبح کا آغاز نماز، دعا، نظم و ضبط اور ایک مثبت روٹین سے ہونا چاہیے۔
لیکن جب میرے بچوں نے تماشا میں صبح کا منظر دیکھا، جہاں کنٹسٹنٹس نیند سے بیدار ہوتے ہی موسیقی، رقص اور بعض اوقات ایسے لباس میں دکھائی دیتے ہیں جو ہماری عمومی خاندانی اور معاشرتی اقدار کی نمائندگی نہیں کرتے، تو انہوں نے مجھ سے ایک بہت سادہ سوال کیا:”بابا، آپ ہمیں کچھ اور سکھاتے ہیں، لیکن پاکستان کے ٹی وی پر تو کچھ اور دکھایا جا رہا ہے؟“
میرے پاس اس سوال کا آسان جواب نہیں تھا۔
میں یہ نہیں کہتا کہ ایک تفریحی پروگرام کو مذہبی پروگرام بنا دیا جائے۔ نہ ہی یہ ضروری ہے کہ صبح ہوتے ہی پروگرام میں اذان یا نماز دکھائی جائے۔ لیکن اگر آپ ہماری دینی روایت کی عکاسی نہیں کرنا چاہتے تو کم از کم صبح کا آغاز ایسے مناظر سے بھی نہ کریں جو یہ تاثر دیں کہ پاکستانی نوجوان نیند سے اٹھتے ہی موسیقی اور رقص شروع کر دیتے ہیں۔
یہ پاکستان کی اکثریتی آبادی کے معمولات اور ثقافتی حقیقت کی نمائندگی نہیں کرتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ جیسے مغربی معاشرے میں 45 سال گزارنے کے بعد بھی میں نے عام زندگی میں صبح کا ایسا کلچر نہیں دیکھا۔ یہاں لوگ صبح اٹھ کر کام پر جاتے ہیں، ورزش کرتے ہیں، واک کرتے ہیں، اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں اور بہت سے مذہبی لوگ اپنی عبادت اور چرچ کی سرگرمیوں کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ نیند سے اٹھتے ہی مخصوص لباس میں موسیقی پر رقص کرنا یہاں بھی کسی عام امریکی گھرانے کی صبح کی نمائندگی نہیں کرتا۔
پھر ہم پاکستان کی نئی نسل کو یہ کس معاشرے کی تصویر دکھا رہے ہیں؟
میرا اعتراض کسی لڑکے، لڑکی یا کنٹسٹنٹ کی ذات پر نہیں۔ اصل ذمہ داری پروگرام بنانے والوں، پروڈیوسرز اور چینل کی ایڈیٹوریل سوچ پر آتی ہے۔ تفریح ضرور کریں، جدید پروگرام بھی بنائیں، لیکن پاکستان کی معاشرتی حقیقت اور خاندانی اقدار کو مکمل طور پر نظرانداز نہ کریں۔
میڈیا صرف تفریح نہیں کرتا، میڈیا رویے بھی بناتا ہے، ترجیحات بھی بدلتا ہے اور نئی نسل کے ذہن میں یہ تصور بھی پیدا کرتا ہے کہ “نارمل” کیا ہے۔ARY اور تماشا کی ٹیم سے میری گزارش ہے کہ اس پہلو پر ضرور غور کریں۔ صبح کے مناظر کو زیادہ مہذب، متوازن اور ہماری معاشرتی حقیقت سے قریب دکھانا نہ پروگرام کی مقبولیت کم کرے گا اور نہ تفریح ختم ہوگی۔
جدید ہونا اور اپنی اقدار سے کٹ جانا ایک ہی بات نہیں ہے۔



