پاکستان

جو نا گڑھ پاکستان تھا، جونا گڑھ پاکستان ہے

نیویارک میں جونا گڑھ کے الحاق پاکستان کی بحالی کی تحریک شروع ، سید علمدار حسین شاہ سمیت ساتھیوں کے زیر اہتمام ”جونا گڑھ پاکستان ہے “ کے عنوان سے بڑی تقریب

تقریب سے نواب آف جو گڑھ نواب جہانگیر کا خصوصی ٹیلیفونک خطاب ، بشیر قمر، کرنل (ر) مقبول ملک ، آغا افضل خان اور ستار چوہدری سمیت کمیونٹی قائدین اور ارکان کی بڑی تعدادمیں شرکت
برصغیر کی تقسیم کے بعد جونا گڑھ کی جانب سے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا گیا، ریاست جونا گڑھ پر تین ماہ تک پاکستان کس سبز ہلالی پرچم لہراتا رہا، بھارت نے غیر قانونی طور پر جونا گڑھ پر قبضہ کیا

نیویارک (اردونیوز)نیویارک میں (بھارت میں موجود ) ریاست جونا گڑگ کی پاکستان کے ساتھ الحاق کی دوبارہ بحالی کی تحریک شروع کر دی گئی ہے ۔ اس سلسلے میں ”جونا گڑھ پاکستان ہے “ کے عنوان سے لانگ آئی لینڈ ، نیویارک میں ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔ اس تقریب کے اہتمام میں پاکستانی امریکن کمیونٹی نیویارک کی معروف سماجی شخصیت ، ہیومین رائٹس واچ نیویارک کے رہنما اور سپیشل اسسٹنٹ جونا گڑھ سید علمدار حسین شاہ اور ان کے ساتھیوں چوہدری ستار، فیاض نواز،طاہر میاں ، حنا رحمان ، ناصر سلیم، امام احمد علی ، سونو بٹ ، سلمان ظفر اور اقبال کھوکھر نے خصوصی کردار اد اکیا ۔ نواب آف جونا گڑھ نواب محمد جہانگیر خان نے پاکستان سے خصوصی ٹیلیفونک خطاب کیا اور امریکہ میں ریاست جونا گڑھ کی بحالی کےلئے خدمات انجام دینے والوں کا شکرئیہ ادا کیا ۔
تقریب میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات آغا افضل خان (سابق امیدوار کانگریس ) ، کرنل (ر) مقبول ملک، کیرول نورین اور بشیر قمر(کلیدی مقرر) سمیت کمیونٹی ارکان نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔تقریب میں سفک کاو¿نٹی کے ڈپٹی کاو¿نٹی ایگزیکٹو اور کانگریس کے امیدوار جان کے مین نے بھی خصوصی شرکت کی ۔
تقریب کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا ۔ سید علمدار شاہ جن کو نواب آف جونا گڑھ کی جانب سے سپیشل اسسٹنٹ بھی مقرر کیا گیا ہے ، نے شرکاءکو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت جن ریاستوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا ، ان میں جونا گڑھ بھی شامل تھی جسے بھارتی قیادت نے دھونس دھاندلی کے ذریعے اپنے ساتھ ملا لیا ۔ اس عالمی نا انصافی کا ازالہ جونا گڑھ کی بطور ریاست اور پاکستان سے الحاق کی بحالی کی صورت میں ہونا چاہئیے۔
نواب آف جونا گڑھ نواب محمد جہانگیر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ میںبسنے والی پاکستانی کمیونٹی کے مشکور ہیں کہ جو ان کے کاز کو آگے بڑھا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست جونا گڑھ ، برطانوی دور میں عالمی قوانین کے تحت وجود میں آئی اور 1947میں تقسیم برصغیر کے فارمولے کے تحت ریاست نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا ۔ہم ریاست کے خود مختار حکمران تھے اور فارمولے کے تحت ہمیں اختیار دیا گیا تھا کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کریں ۔ میرے دادا نواب مہابت خان نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا۔
تقریب سے خطاب کے دوران کلیدی مقرر بشیر قمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت جن ریاستوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تھا ، ان میں ریاست جونا گڑھ بھی شامل تھی ۔ تین ماہ تک ریاست جونا گڑھ پر پاکستان کا پرچم لہراتا رہا ۔نواب آف جونا گڑھ نے الحاق پاکستان کا فیصلہ برصغیر کی تقسیم کے فارمولے کے عین مطابق ، قانونی طور پر کیا تھا لیکن اس ہندو حکمرانوں نے ایک سازش اور زور زبردستی کرکے ریاست کے الحاق کی پرواہ کئے بغیر اسے بھارت کے ساتھ شامل کر لیا اور پھر اسے ریاست گجرات میں ضم کر دیا جو کہ عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے ۔اس سلسلے میں نواب آف جونا گڑھ کے موقف درست ہیں ۔
تقریب سے خطاب کے دوران کرنل (ر) مقبول ملک نے اس تاریخی دستاویز اور فرمان کا حوالہ دیا اور اس کے بعض مندرجات پڑھے کہ جن کے تحت ریاست جونا گڑھ نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا۔
آغا افضل خان اور کیرول نورین نے خطاب کرتے ہوئے سید علمدار حسین شاہ اور ان کے ساتھیوں کو ریاست جونا گڑھ کا معاملہ ، امریکہ میں اٹھائے جانے پر خراج تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جونا گڑھ کا معاملہ عالمی قوانین اور انصاف کا معاملہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ بانیان پاکستان کے مشن کو ہم سب کو آگے بڑھانا چاہئیے اور پاکستان کو مضبوط کرنا چاہئیے ۔
تقریب میں شریک کمیونٹی کی اہم شخصیات اور ارکان کو سید علمدار حسین شاہ کی جانب سے ریاست جونا گڑھ کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے بیجز بھی پیش کئے گئے اور ان بیجز کو ان کے کوٹس اور جیکٹس پر لگایا گیا ۔
سید علمدار حسین شاہ نے تمام مقررین اور شرکاءکا شکرئیہ ادا کیا ۔ اس تقریب کے بعد سید علمدار شاہ کے ہاں پوتے کی پیدائش کی خوشی میں محفل موسیقی کا اہتمام کیا گیا جس میں معروف گلوکارہ صائمہ کاشف نے اپنے فن کا مظاہرہ کرکے شرکاءکو محظوظ کیا ۔

 

Related Articles

Back to top button