پاکستانخبریں

ساوتھ ایشیائی تنظیموں کا آٹو انشورنس بحران پر احتجاج، گورنر نیویارک کوکل سے فوری اقدام کا مطالبہ

South Asian groups urge Gov. Hochul to tackle auto insurance crisis hurting New York’s working families

نیویارک میں بڑھتے اخراجات نے ورکنگ فیملیز کو دو راہے پر لا کھڑا کیا، کمیونٹی اتحاد کا اعلان،چھ نمایاں ساوتھ ایشیائی کمیونٹی تنظیموں نے”سٹیزنز فار افورڈیبل ریٹس“ کے ساتھ شمولیت اختیار کر لی
نیویارک کی ورکنگ فیملیز آٹو انشورنس کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث شدید مالی دباو¿ کا شکار ہیں اور انہیں زندگی کی بنیادی ضروریات اور گاڑی کی انشورنس میں سے انتخاب کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے

نیویارک (اردو نیوز) نیویارک کی ورکنگ فیملیز آٹو انشورنس کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث شدید مالی دباو کا شکار ہیں اور انہیں زندگی کی بنیادی ضروریات اور گاڑی کی انشورنس میں سے انتخاب کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس بحران کے خلاف چھ نمایاں ساوتھ ایشیائی کمیونٹی تنظیموں نے”سٹیزنز فار افورڈیبل ریٹس“ ( Citizens for Affordable Rates)کے ساتھ شمولیت اختیار کر لی ہے اور گورنر کیتھی ہوکل سمیت ریاستی قانون سازوں سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
سٹیزنز فار افورڈیبل ریٹس ( سی اے آر)کے ترجمان خوسے بایونا نے کہا کہ ہر روز ہم دیکھتے ہیں کہ ماں بچوں کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے یا نوکری پر جانے کے لیے گاڑی استعمال کرنا چاہتی ہے، مگر انشورنس کی ادائیگی نہیں کر سکتی۔ یہ صرف آٹو انشورنس کا مسئلہ نہیں بلکہ اس بات کا سوال ہے کہ محنت کش تارکین وطن نیویارک میں اپنی بقا اور اپنے خواب کس طرح جاری رکھ سکیں گے۔
یہ ساوتھ ایشیائی تنظیمیں لاکھوں خاندانوں کی نمائندگی کرتی ہیں جو نیویارک کی معیشت اور ثقافت کا بنیادی ستون ہیں:
بنگلہ دیشی امریکن کمیونٹی ڈویلپمنٹ اینڈ یوتھ سروسز:بروکلین میں بنگلہ دیشی نژاد فیملیز کے لیے تعلیمی اور رہائشی سہولتوں کا نیٹ ورک۔
کونسل آف پیپلز آرگنائزیشن ( کوپو ۔COPO)کم آمدنی والے تارکین وطن، خاص طور پر ساوتھ ایشیائی اور مسلم پس منظر رکھنے والے خاندانوں کی مدد۔
ہیومین سپورٹ کولیشن : بحران کی صورت میں بنگلہ دیشی خاندانوں کے لیے براہ راست امداد اور رہنمائی۔
انڈیا ہوم انک : کوئینز میں بزرگ بھارتی نڑاد شہریوں کے لیے صحت اور سماجی سہولیات۔
پراجیکٹ نیویارک :جنوبی کوئینز میں روزگار کی تربیت، مالی خواندگی اور کمیونٹی ایمپاورمنٹ۔
سکھی فار ساو¿تھ ایشین وومین : گھریلو تشدد کا شکار خواتین کے لیے ثقافتی طور پر حساس امدادی اور حفاظتی خدمات۔
نیویارک میں آٹو انشورنس پریمیم سالانہ 1700 ڈالر سے زائد، جو قومی اوسط سے 40 فیصد زیادہ ہے۔
ہیلتھ اور پراپرٹی انشورنس کے اخراجات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں،کم آمدنی والے خاندان اپنی آمدنی کا بڑا حصہ انشورنس پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں، جائیداد کے انشورنس اخراجات کرایوں اور رہائشی قیمتوں میں اضافے کا باعث ہیں۔کاروباری حضرات انشورنس کے بوجھ کے باعث دکانیں بند کر رہے ہیں، جس سے صارفین کے لیے بنیادی اشیاءاور خدمات مزید مہنگی ہو گئی ہیں۔
فراڈ اور جعلی کلیمز بھی انشورنس لاگت میں اضافے کی بڑی وجہ ہیں، جن کا بوجھ ایماندار فیملیز اٹھا رہی ہیں۔
کمیونٹی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ نیویارک سٹیٹ کی گورنر کیتھی ہوکل اور ریاستی قانون ساز حقیقی اصلاحات متعارف کرائیں، انشورنس فراڈ اور جعلی مقدمات کے خلاف کریک ڈاو¿ن کریں اور محنت کش فیملیز کو ریلیف فراہم کریں تاکہ وہ نیویارک میں اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکیں۔
”سٹیزنز فار افورڈیبل ریٹس“ مختلف شہری، سماجی تنظیموں اور رضاکاروں کا ایک اتحاد ہے جو نیویارک میں بلند انشورنس اخراجات کے بنیادی اسباب ختم کرنے کے لیے پالیسی اصلاحات، آگاہی اور وکالت کر رہا ہے۔

South Asian groups urge Gov. Hochul to tackle auto insurance crisis hurting New York’s working families

Related Articles

Back to top button