فیس بک اور انسٹا گرام چلانے والی کمپنی میٹا بچوں کو سوشل میڈیا کی عادی بنانے کے مقدمے میں 17ارب ڈالرز سے زائد ہرجانہ ادا کرنے کےلئے تیار
میٹا سے معاہدے کے بعد ایک اہم وفاقی مقدمے کی کارروائی بھی ٹل گئی ہے، جس میں میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ کو گواہی کے لیے طلب کیے جانے کا امکان تھا
فیس بک اور انسٹا گرام چلانے والی کمپنی بچوں کو سوشل میڈیا کی عادی بنانے کے مقدمے میں 17ارب ڈالرز سے زائد ہرجانہ ادا کرنے کےلئے تیار
میٹا سے معاہدے کے بعد ایک اہم وفاقی مقدمے کی کارروائی بھی ٹل گئی ہے، جس میں میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ کو گواہی کے لیے طلب کیے جانے کا امکان تھا
نیویارک ( محسن ظہیر سے ) فیس بک اور انسٹا گرام چلانے والی امریکی کمپنی ”میٹا “(Meta) نے سماجی رابطے کی اپنی ایپس پر بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کے مقدے میں 17ارب ڈالرز سے زائد ہرجانہ ادا کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے اور اس سلسلے میں عدالت میںفریقین سے تصفیہ کر لیا ہے ۔واضح رہے کہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنی Meta کے خلاف فیس بک اور انسٹاگرام کو بچوں اور نوجوانوں کے لیے حد سے زیادہ پرکشش اور عادت بنانے والے پلیٹ فارمز کے طور پر ڈیزائن کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ زیرمقدمے زیر سماعت تھے اور ان مقدمات میں جو کہ29 ریاستوں سے زائد ریاستوں میں دائر کئے گئے تھے ،میں’میٹا ‘نے فریقین کے ساتھ 17.1 ارب ڈالر تک ادا کرنے کا تصفیہ کر لیا ہے۔ اس معاہدے کے بعد ایک اہم وفاقی مقدمے کی کارروائی بھی ٹل گئی ہے، جس میں میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ کو گواہی کے لیے طلب کیے جانے کا امکان تھا۔
امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوزکے مطابق، معاہدے کے تحت میٹا کم از کم 12.1 ارب ڈالر اگلے 10 سال کے دوران ادا کرے گی، جبکہ بعض شرائط پوری ہونے کی صورت میں مزید 5 ارب ڈالر ادا کرنے پڑ سکتے ہیں، جس سے مجموعی رقم 17.1 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔29 ریاستوں نے میٹا پر الزام عائد کیا تھا کہ کمپنی نے بچوں اور نوجوانوں کو اپنی سوشل میڈیا ایپس پر زیادہ وقت گزارنے کی ترغیب دینے والے فیچرز استعمال کیے اور پلیٹ فارمز کی ممکنہ حفاظتی مشکلات کے بارے میں عوام کو گمراہ کیا۔ ریاستوں کی جانب سے بچوں کا ذاتی ڈیٹا والدین کی اجازت کے بغیر جمع کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔
تصفیے کے تحت نوجوان صارفین کے لیے سوشل میڈیا استعمال پر سخت روزانہ وقت کی پابندیاں متعارف کرائی جائیں گی۔ اس کے علاوہ رات کے مخصوص اوقات میں ایپس تک رسائی محدود کرنے، اسکول کے اوقات میں نوٹیفکیشن خاموش رکھنے اور والدین کو اپنے بچوں کے اکاو¿نٹس پر مزید کنٹرول فراہم کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔
میٹا نے الزامات کو تسلیم نہیں کیا اور کہا ہے کہ نوجوانوں کے لیے محفوظ اور مثبت آن لائن ماحول فراہم کرنا کمپنی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ کمپنی کے مطابق نئے اقدامات کا مقصد والدین کو زیادہ اختیار دینا اور نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو زیادہ محفوظ بنانا ہے۔
تاہم میٹا نے واضح کیا ہے کہ رات کے اوقات میں پابندی سمیت بعض اقدامات اس وقت ہی نافذ ہوں گے جب ”ٹک ٹاک“اور ”یو ٹیوب “جیسی دیگر بڑی سوشل میڈیا کمپنیاں بھی اسی نوعیت کے حفاظتی اقدامات اپنائیں گی۔ میٹا کا کہنا ہے کہ نوجوان مختلف پلیٹ فارمز کے درمیان منتقل ہوتے رہتے ہیں، اس لیے صرف ایک کمپنی کی جانب سے پابندیاں عائد کرنے سے مطلوبہ نتائج محدود رہ سکتے ہیں۔
میٹا کے مطابق نئے اقدامات کو مکمل طور پر نافذ کرنے میں تقریباً چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔ کمپنی نے ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر بھی زور دیا ہے کہ وہ ریاستی اٹارنی جنرلز کے ساتھ مل کر نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے ایک مشترکہ حفاظتی معیار اپنائیں۔
Meta Agrees to Pay Over $17 Billion to Settle Lawsuit Alleging Facebook and Instagram Addicted Children
@urdunews.usa فیس بک اور انسٹا گرام چلانے والی کمپنی بچوں کو سوشل میڈیا کی عادی بنانے کے مقدمے میں 17ارب ڈالرز سے زائد ہرجانہ ادا کرنے کےلئے تیار #meta #UrduNewsUSA



