امریکی ریاستوں ورجینیا اور میری لینڈ میں امیگریشن کا بڑا کریک ڈاؤن، 14 روز میں 1328 گرفتار
واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں ”آپریشن سیف کمیونٹی“، تقریباً 400 گرفتار افراد کا مجرمانہ ریکارڈ یا زیرِ التوا مقدمات کا دعویٰ
نیویارک ( محسن ظہیر سے ) امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے واشنگٹن ڈی سی کے گرد و نواح میں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف دو ہفتوں پر محیط بڑے آپریشن کے دوران 1,328 افراد کو گرفتارکرنے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی حکام کے مطابق یہ کارروائی یکم اگست سے 14 اگست تک ورجینیا اور میری لینڈ میں کی گئی۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کے مطابق”آپریشن سیف کمیونٹی ،واشنگٹن ڈی سی“ کے دوران گرفتار ہونے والوں میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کے خلاف جنسی حملہ، اغوا، نشے کی حالت میں ڈرائیونگ، ہٹ اینڈ رن، شناختی چوری اور ڈکیتی سمیت مختلف جرائم میں سزائیں یا مقدمات موجود ہیں۔ حکام کے مطابق تقریباً 400 گرفتار افراد پہلے ہی کسی جرم میں سزا یافتہ تھے یا ان کے خلاف امریکا میں فوجداری الزامات عائد تھے۔
🚨@USLaborIG on the Trump administration’s proposed H-1B visa fee: pic.twitter.com/FTeUOPhm6Y
— DOL OIG (@DOLOIG) August 25, 2026
امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں سے مبینہ تعلق رکھنے والے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا، جن میںایم ایس تھرٹین ،18thسٹریٹ گینگ اور ٹرین ڈی آراگوا گینگ سے وابستہ افراد شامل ہیں ۔
حکام کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں ایل سلواڈور کا شہری ایگنر ولفریڈو ہویزو موران بھی شامل ہے، جسے ورجینیا کے شہر رچمنڈ میں قتل اور قتل کے دوران آتشیں اسلحہ استعمال کرنے کے الزام میں مطلوب قرار دیا گیا تھا۔ ICE اور امریکی مارشلز نے اسے چیسٹر فیلڈ، ورجینیا سے گرفتار کرکے مقامی حکام کے حوالے کر دیا ہے۔
ہوم لینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کے مطابق دیگر گرفتار افراد میں ہیٹی کا شہری شامل ہے جس پر اقدامِ قتل اور خطرناک ہتھیار رکھنے سمیت الزامات کا ریکارڈ ہے، جبکہ ہونڈوراس کے ایک شہری کو مبینہ طور پر سنگین ہٹ اینڈ رن اور دیگر الزامات کے باعث گرفتار کیا گیا۔
امیگریشن حکام نے یہ بھی بتایا کہ ورجینیا اور میری لینڈ میں کارروائی کے دوران ’ایم ایس تھرٹین ‘کے مبینہ ارکان** کو گرفتار کیا گیا۔ حکام کے مطابق ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کے خلاف نشے کی حالت میں ڈرائیونگ، معطل لائسنس کے باوجود ڈرائیونگ، غیر قانونی دوبارہ داخلے، زخمی کرنے اور دیگر جرائم کا ریکارڈ موجود ہے۔
گرفتار افراد میں گوئٹے مالا، جمیکا، میکسیکو، ایل سلواڈور، ہنڈوراس اور ہیٹی سمیت مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں۔ امیگریشن حکام کے مطابق بعض افراد پر جنسی جرائم، اغوا، شناختی چوری، ڈکیتی، فراڈ، ہٹ اینڈ رن اور غیر قانونی طور پر امریکا میں دوبارہ داخل ہونے جیسے مقدمات یا سزاو¿ں کا ریکارڈ ہے۔
سیکرٹری ہوم لینڈ سیکورٹی مارک وین مولن نے کارروائی کو امیگریشن اہلکاروں کی اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایجنسی ایسے افراد کو گرفتار کرنے اور امریکا سے نکالنے کے لیے کام کر رہی ہے جنہیں حکام خطرناک قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق انتظامیہ امریکی شہریوں کی سلامتی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔
امیگریشننفورسمنٹ اینڈ ریموول آپریشنز کی قائم مقام اسسٹنٹ ڈائریکٹر پیٹریشیا ہائیڈنے کہا کہ ایجنسی کے اہلکار ایسے افراد کی تلاش اور گرفتاری پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں جو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد کو ورجینیا اور میری لینڈ کی کمیونٹیز سے ہٹانے سے عوامی تحفظ بہتر ہوگا۔
وفاقی حکام کے مطابق کارروائی کا مرکز واشنگٹن ڈی سی کے مضافاتی علاقوں میں واقع ورجینیا اور میری لینڈ کی کمیونٹیز تھیں، تاہم یو ایس امیگریشن نے دونوں ریاستوں کے مختلف علاقوں میں بھی ہدف بنا کر گرفتاریاں کیں۔
یہ آپریشن جولائی میں جارجیا میں ہونے والے ”آپریشن سیف کمیونٹی ، اٹلانٹا“ کے بعد کیا گیا، جس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے مطابق 1,200 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد میں سے جن کے خلاف فوجداری مقدمات مکمل ہونا باقی ہیں، انہیں متعلقہ قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا، جبکہ امیگریشن نے متعدد افراد کے خلاف امیگریشن حراستی احکامات جاری کرکے ان کی ملک بدری کی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔



