نیویارک سٹی کے مئیر ایرک ایڈمز گذشتہ 72گھنٹوں سے ایک بار پھر مسلسل سیاسی خبروں ، قیاس آرائیوں کا محور بنے ہوئے ہیں
نیویارک ( محسن ظہیر سے ) نیویارک سٹی کے مئیر ایرک ایڈمز گذشتہ 72گھنٹوں سے ایک بار پھر مسلسل سیاسی خبروں ، قیاس آرائیوں کا محور بنے ہوئے ہیں ۔ ان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں اس وقت تیز ہو گئیں کہ جب نیویارک سٹیٹ کی گورنر کیتھی ہوکل نے مئیر کے الیکشن میں ڈیموکریٹک پرائمری جیتنے والے زوہران ممدانی کی حمایت کا اعلان کر دیا ۔ تاہم اس اعلان کے فوری بعد مئیر ایڈمز کے ترجمان کی جانب سے واضح الفاظ میں اُن خبروں کی تردید کی گئی کہ جن میں کہا گیا کہ مئیر ، الیکشن سے دستبردار ہو رہے ہیں ۔
اس دوران امریکی میڈیا یہ بھی رپورٹ کررہا ہے کہ مئیر ایرک ایڈمز نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ الیکشن میں اپنی مقبولیت اور کامیابی کے امکانات کے بارے میں اپنا ذاتی سروے ( پول ) کروائیں گے اور اس سروے کے نتائج کو پیش نظر رکھ کر سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مئیر ایڈمز کے قریبی حلقوں میں موجود لوگ بھی اس بات کا عندئیہ دے رہے ہیں کہ مئیر ایڈمز آئندہ دنوں یا ہفتے میں کوئی بڑا فیصلہ کر سکتے ہیں ۔
مئیر نیویارک کے الیکشن جو کہ چار نومبر کو ہونے جا رہے ہیں، میں ڈیموکریٹ پرائمری الیکشن کے فاتح زوہران ممدانی کو ابھی بھی واضح برتری حاصل ہے اور بعض سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ اگر مئیر ایڈمز اور ریپبلکن امیدوار کرٹس سلوا، سابق گورنر جو کہ مئیر کی دوڑ میں شامل ہیں، کے حق میں دستبردار ہو جائیں تو ایڈریو کومو کا چانس بن سکتا ہے کہ وہ زوہران ممدانی کو شکست دیں تاہم مسٹر ممدانی کا کہنا ہے کہ نیویارک کے عوام نے اگلے مئیر کے حوالے سے فیصلہ دے دیا ہے اور کوئی بھی ترکیب کامیاب نہیں ہو گی ۔
نیویارک سٹیٹ کی گورنر کیتھی ہوکل جنہوں نے اتوار کو زوہران ممدانی کی تائید کا اعلان کیا ہے ، اپنے فیصلے اور اعلان کے بعد صدر ٹرمپ اور بعض ڈیموکریٹ حلقوں کی شدید تنقید کی زد میں ہیں ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں گورنر ہوکل کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر سوشلسٹ زوہران ممدانی ، مئیر منتخب ہو جاتے ہیں تو وہ نیویارک سٹی کے لئے فیڈرل فنڈنگ کا اہم حصہ روک دیں گے ۔



