پاکستانامیگریشن نیوز

نیویارک میں جعلی امیگریشن لا فرم بے نقاب، چار افراد پر وائر فراڈ اور سرکاری اہلکار بننے کے الزامات عائد


نیویارک میں جعلی امیگریشن لا فرم بے نقاب، چار افراد پر وائر فراڈ اور سرکاری اہلکار بننے کے الزاماتعائد

نیویارک (اردو نیوز)یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (یو ایس سی آئی ایس) نے ایک اہم تحقیقاتمیں معاونت فراہم کی جس کے نتیجے میں پانچ نکاتی فردِ جرم عائد کی گئی اور چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ انافراد پر وفاقی سازش، وائر فراڈ، منی لانڈرنگ کی سازش اور خود کو امریکی حکومت کے افسر یا ملازم ظاہرکرنے کے دو الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں امیگریشن حکام کی نقالی بھی شامل ہے۔

یہ فردِ جرم نیویارک کے مشرقی ضلع کی وفاقی عدالت U.S. District Court for the Eastern District of New York میں جزوی طور پر منظر عام پر لائی گئی، جبکہ امریکی اٹارنی نے الزامات کا اعلانکیا۔

گرفتار ہونے والوں میں ڈینیلا الیجاندرا سانچیز رامیریز، جھوان سیبسٹین سانچیز رامیریز اور الیگزینڈرا پیٹریشیاسانچیز رامیریز شامل ہیں، جنہیں نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ Newark Liberty International Airport پر اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ کولمبیا کے لیے یکطرفہ ٹکٹ پر پرواز پکڑنے کی کوشش کر رہےتھے۔ چوتھی ملزمہ مارلن یولیتزا سالازار پینیڈا کو نیو جرسی کے ایک ریسٹورنٹ سے گرفتار کیا گیا، جبکہپانچواں ملزم امریکی تحویل میں نہیں ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزمان نے خود کو امیگریشن وکیل ظاہر کرتے ہوئے ایک جعلی لا فرمسیایم بوفیٹے ڈی ابوجادوس کونسلٹوریا میگریٹوریاکے نام سے قائم کی۔ انہوں نے زیادہ تر فیس بک کےذریعے متاثرین سے رابطہ کیا اور سینکڑوں سے ہزاروں ڈالر تک فیس وصول کی، حالانکہ وہ کسی بھی امریکیریاست میں وکالت کے مجاز یا لائسنس یافتہ نہیں تھے۔

ملزمان متاثرین کو جعلی دستاویزات بھیجتے تھے جن پر امریکی سرکاری اداروں کے نشانات موجود ہوتے تھےتاکہ انہیں سرکاری دستاویزات کا تاثر دیا جا سکے۔ بعض جعلی کاغذات میں متاثرین کے زیرِ التوا امیگریشنمقدمات کا حوالہ دے کر یہ ظاہر کیا جاتا تھا کہ ان کے کیس کامیابی سے حل ہو چکے ہیں، جبکہ حقیقت میںایسا نہیں تھا۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمان نے جعلی امیگریشن سماعتیں اور پناہ گزین انٹرویوز منعقد کیے، جنمیں وہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے امیگریشن جج، کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن افسران اور امیگریشن وکیل بن کرپیش ہوتے تھے۔ اس دوران وہ عدالتی لباس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی وردیاں پہن کرسرکاری دفاتر جیسے پس منظر کے سامنے بیٹھتے اور متاثرین سے حساس ذاتی معلومات حاصل کرتے تھے۔

ان جعلی کارروائیوں کے باعث بعض متاثرین اپنی اصل امیگریشن عدالت میں پیشی سے محروم ہو گئے۔کم از کم ایک خاتون کو ملک بدری کا حکم بھی جاری ہوا کیونکہ وہ سمجھ رہی تھیں کہ ان کا کیس حل ہو چکاہے، تاہم بعد میں وہ حکم منسوخ کر دیا گیا۔

تحقیقات کے مطابق متاثرین سے ایک لاکھ ڈالر سے زائد کی فراڈ رقم وصول کی گئی۔

استغاثہ کے مطابق فردِ جرم میں عائد الزامات ابھی ثابت ہونا باقی ہیں اور قانون کے مطابق ملزمان کوقصوروار ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جائے گا۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں ہر ملزم کو زیادہ سےزیادہ بیس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button