کالم و مضامینخبریں

میرا حال مجھ سے ناراض ہے (قسط دوئم)

انسان ماضی کے پچھتاوؤں اور مستقبل کی فکر سے نکل کر اپنے حال کو بہتر بنانے کی کوشش کرے

خصوصی محمون ۔۔۔۔ظاہر سید (نیویارک)

جیسا کہ پہلی قسط میں میں نے لکھا تھا کہ انسان ماضی کے پچھتاوؤں اور مستقبل کی فکر سے نکل کر اپنے حال کو بہتر بنانے کی کوشش کرے ۔اسی لیے میں کہتا ہوں کہ انسان کا حال اگر بہتر ہوگا تو وہ اپنے مستقبل کے لیے اچھی تدبیر کر سکتا ہے ۔ اس وقت حال کے حالات کو اگر غور سے سمجھا اور دیکھا جائے تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ حال خود اپنے حال سے تنگ آچکا ہے حال کے حالات اس وقت دنیا میں بدحالی کی داستان سنا رہے ہیں اگر میں حال کو ایک ذی شعور انسان کی نظر سے دیکھوں تو اس وقت دنیا کا حال ظلم و ستم ناانصافی غریبی بیچارگی اور سرمایہ دارانہ نظام کی چمکتی ہوئی چادر اوڑھ کر اپنی بدحالی کو خوشحالی بنا کر پیش کرنے کی کوشش میں مصروف ہے ۔حالانکہ میں جانتا ہوں کہ اس میں ذرہ برابر بھی حقیقت نہیں ہے میں کہتا ہوں کہ دنیا کے حال کو سب سے زیادہ خطرہ انسان سے ہی ہے یہ میری ذاتی رائے ہے اس کے ساتھ اختلاف کرنے کا ہر ایک کو پورا پورا حق حاصل ہے۔ میرا دھیان کبھی اس طرف نہیں گیا کہ کیا میں اپنے حال پر خوش ہوں ؟ وہ اس لیے کہ ماضی کی بھیانک داستانوں نے مجھے اتنا خوفزدہ کر دیا ہے کہ میں حال کو چھوڑ کر صرف اور صرف مستقبل کی فکر میں دوڑے جا رہا ہوں ۔
میں بھی اسی معاشرے کا حصہ ہوں کہ جس معاشرے میں ایک چوری کرنے والے کو میں بڑے فخر سے چور کہتا ہوں اور اگر کبھی میں خود چوری کرتا پکڑا جاو¿ں تو جو مجھے چور کہے تو میں اس کا منہ نوچ لوں گا کیوں ؟چوری تو چوری ہوتی ہے میں کروں یا کوئی اور کرے ۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ سچ ایک ہی وقت میں اچھا بھی ہے اور برا بھی ہے۔
پہلی بات تو آپ کو بتاتا چلوں کہ مجھ میں سچ بولنے کی جرات نہیں ہے ۔ اگر کبھی بھولے سے سچ بولنے کی جرات پیدا ہو بھی جائے تو میرے میں سچ سننے کی جرات نہیں پیدا ہوتی۔ اگر میں اپنے حال کو وقت کی ستم ظریفی کہوں تو یہ الفاظ صرف اور صرف میری سستی اور کائلی ہی کی ترجمانی کریں گے۔ اس کے علاوہ ان الفاظ میں ذرہ برابر بھی صداقت نہیں ہے ۔
میں روح کے رویوں کا طالب علم ہوں مگر افسوس کہ میرا اپنا رویہ میرے ساتھ یہ ہے کہ میں اپنے حال کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں کیونکہ میں اپنے حال پر خوش نہیں ہوں یا حال مجھ سے خوش نہیں ہے
رات کے دو بج رہے ہیں رات کے اس پہر میں میں اپنے حال کو مستقبل کے لیے لکھ رہا ہوں ۔
میں جس معاشرے کا فرد ہوں ،یہ معاشرہ جنسی بددیانتی سے بھرپور معاشرہ ہے اور سمیت میرے ہر انسان اس عمل سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہے مگر جو بات سوچنے پر مجبور کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس عمل کی وجہ سے معاشرہ جنسی بے راہ روی کا شکار کیوں ہو چکا ہے ؟یہ بات میں اپنے پڑھنے والے پر چھوڑ رہا ہوں کہ اپ غور و فکر کریں
شادی شدہ مرد اپنی بیوی کو چھوڑ کر کسی دوسری عورت میں دلچسپی رکھتا ہے ، کہا جاتا ہے کہ یہ مرد کی فطرت ہے، اب تو عورت بھی اس دوڑ میں برابر حصہ لے چکی ہے مگر ایسا کیوں ہے ؟کیا اس کو انسانی فطرت سمجھ کر قبول کر لوں؟ یا میں اس کو نئے زمانے کی ضرورت سمجھ لوں ؟نہیں نہیں یہ سب باتیں میری اپنی بنائی ہوئی ہیں اور یہ بالکل حقیقت کے برعکس ہیں ۔مردوں کا عورتوں میں اور عورتوں کا مردوں میں دلچسپی لینا حقیقتا یہ ایک فطری عمل ہے مگر مرد ایک عورت پر اکتفا نہیں کرتا یہ بات اصل میں سمجھنے کی ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟
جب میں نے حاصل کو لاحاصل پر ترجیح دینا شروع کی تو میری بہت ساری خواہشات جو تخت شعور میں تھی وہ خواہشات میرے شعور میں انا شروع ہو گئیں تو جب یہ خواہشات میرے شعور میں انا شروع ہوئیں تو میں نے ان خواہشات کی تکمیل کے لیے حلال و حرام کی پرواہ کرنا چھوڑ دی اور اسی اثنا میں مجھے میرے حال نے پس پشت ڈال دیا اور اسی وجہ سے میں بدحالی کی دلدل میں پھنس کے رہ گیا ہوں یہاں تک اس تحریر میں تمام تر باتیں میں نے اپنے ساتھ کی ہیں اپ اس کو خود کلامی بھی کہہ سکتے ہیں
اور اب ائیں کچھ باتیں اس دنیا میں رہنے والوں کے ساتھ بھی کرتے ہیں جس دنیا میں ایک دن ہم نے بھی جانا ہے اس دنیا کے لوگوں کے حال کے بارے میں کچھ خبر لیتے ہیں اج میں اس دنیا میں رہنے والے اپنے ایک پرانے آشنا مولانا صاحب کو اپنے موبائل سے اڈیو کال کرنے لگا ہوں کیونکہ معذرت سے اس دنیا میں ویڈیو کال نہیں ہو سکتی کیونکہ میں اس وقت جاگ رہا ہوں میرے اور مولانا کے درمیان ہونے والی گفتگو کو اپ پڑھیں

میں نے مولانا کو کال ملا دی ہے

گھنٹی جا رہی ہے
اور مولانا نے کال اٹھا لی ہے
السلام علیکم قبلہ مولانآ ظاہر سید عرض کر رہا ہوں نیویارک امریکہ سے
مولانا . وعلیکم السلام ظاہر میاں تم امریکہ اگئے ہو ؟
ظاہر سید۔۔ جی جی مولانا میں امریکہ اگیا ہوں مولانا اپ تو ایسے پوچھ رہے ہیں کہ جیسے اپ پہلے ہی امریکہ میں موجود ہیں
مولانا۔۔ ارے ظاہر میاں مجھے چھوڑو یہ بتاو¿ اج کیسے یاد کیا مجھے ؟
ظاہر سید ۔۔بس مولانا سوچا عرصہ دراز گزر گیا اپ سے بچھڑے ہوئے اپ کی اواز سننے کو کان ترس رہے تھے سوچا اپ سے بات چیت کر کے اپ کا حال اور حالات بھی دریافت کر لوں
مولانا۔۔ ارے ظاہر میاں میرے حالات کا کیا پوچھتے ہو میرے حالات کو چھوڑو یہ بتاو¿ کہ امریکہ ا کر کسی گوری کو گرل فرینڈ بنایا ہے کہ نہیں ؟
ظاہر سید ۔۔ ارے مولانا یہ دنیا کی حوریں مجھے کہاں گھاس ڈالتی ہیں میں تو اپ کے کہنے پہ ان کی مخالفت کی ہے ساری عمر کیونکہ اپ کہتے تھےکہ اگے 70 ملیں گی تو میں تو انہی کی اس لگائے بیٹھا ہوں جس طرح اج اپ مزے کر رہے ہیں
مولانا ۔۔ ارے ظاہر میاں چھوڑو ان باتوں کو تم تو خود چٹے گورے ہو کسی گوری کو گرل فرینڈ بنا لو
ظاہر سید ۔۔ ارے مولانا اپ کو تو پتہ ہی ہے کہ میں اس کام میں بہت نالائق ہوں
اپ بتائیں کیسی گزر رہی ہے وہاں کی زندگی ؟
مولانا۔۔ظاہر میاں کیا پوچھتے ہو یار بس ہفتے کے ساڑھے چھ دن سزا میں کٹتے ہیں اور باقی ادھا دن اپنے سزا یافتہ جسم کو مرہم پٹی کرنے میں لگ جاتا ہے
شکر ہے ظاہر میاں تم نے بھی ایسے وقت پر کال کی کہ میرا نمبر کھلا ہے ورنہ یہاں تو ساڑھے چھ دن میرا نمبر بند ہی رہتا ہے
ظاہر سید ۔۔او ہو بڑا افسوس ہوا مولانا دعا ہے کہ اللہ پاک اپ پر اپنا فضل و کرم فرمائے
یہ بتائیں کہ وہاں کی دنیا کو کیسا محسوس کرتے ہیں ؟
مولانا ۔۔ظاہر میاں محسوس کرنے کی بات کو گولی مارو میں تو اپنے کرموں کی سزا بھگت رہا ہوں ۔
ظاہر سید ۔۔کیوں کیا ہوا مولانا سب ٹھیک تو ہے نا ؟
مولانا ۔۔کیا ٹھیک ہوگا ظاہر میاں فانی دنیا میں رہتے ہوئے مال و دولت کمانے کی خاطر اللہ کی ایتوں کو بھیجتا رہا اللہ کے دین کی تجارت کرتا رہا دین کی اڑ میں جائز کو ناجائز اور ناجائز کو جائز حرام کو حلال اور حلال کو حرام کرتا رہا اب ان کرموں کی سزا تو بھگتنی ہے نہ مجھے
ظاہر سید ۔۔اللہ پاک رحم فرمائے اپ پر
مولانا اپ نے تو بہت پیسہ کمایا تھا تو کیا کچھ دے کر سزا معاف نہیں ہو سکتی ؟ اور اپ کے پیچھے چھوڑی ہوئی دولت پر اپ کے بیٹے تو عیش کر رہے ہیں اب تو ارب پتی بن گئے ہیں کیا اپ کے بیٹے اپ کی کچھ مدد نہیں کرتے ؟
مولانا۔۔ظاہر میاں کیا پوچھتے ہو جس اولاد کے لیے میں نے جائز و ناجائز حلال و حرام میں تمیز کرنا چھوڑ دی تھی انہوں نے تو کبھی میرے لیے بادشاہ ازل و ابد کی بارگاہ میں میری معافی کے لیے درخواست تک نہیں دی رہی بات کچھ دے د** کر جان چھڑانے کی وہ کام یہاں ممکن نہیں ہے اگر یہ کام ممکن ہوتا تو مجھ سے بڑے بڑے دولت مند یہاں سزا بھگت رہے ہیں
ظاہر میاں وہ تم جانتے تھے نا ہماری مسجد کی کمیٹی کے صدر صاحب کو ؟
ظاہر سید ۔۔ہاں ہاں مولانا . وہ شیخ صاحب وہ تو بہت بڑے سیٹہ تھے کیا ان سے ملاقات ہوتی رہتی ہے اپ کی ؟
مولانا ۔۔ملاقات کی بات کرتے ہو ظاہر میاں وہ شیخ صاحب اور میں ایک ہی جگہ پر ہوتے ہیں مگر وہ ذرا اوپر والے درجے میں ہیں کیونکہ میں تو ایک ہی مسجد کا حساب دے رہا ہوں مگر ہمارے صدرشیخ صاحب وہ تو دو مساجد اور تین یتیم خانوں کا حساب دے رہے ہیں
اگلی قسط میں انشائاللہ مسجد کمیٹی کے صدر جناب شیخ صاحب کے نمبر پر کال کریں گے اور ان کے حالات معلوم کرنے کی کوشش کریں گی

یہ بھی پڑھیں : دنیا اپنے حال سے بے خبر ( قسط اول)

Related Articles

Back to top button