امیگریشن نیوزبین الاقوامی

سپریم کورٹ میں ٹرمپ کی عارضی فتوحات، مستقل فیصلے آنے باقی

Trump scores temporary wins in Supreme Court, final rulings on spending cuts and immigration still pending

سپریم کورٹ نے سرکاری اخراجات میں کٹوتیوں، ملک گیر انجنکشنز، امیگریشن پالیسیوں اور دیگر امور پر ٹرمپ کے حق میں فیصلے دئیے

واشنگٹن (اردو نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس سال سپریم کورٹ کی ایمرجنسی ڈاکٹ پر تقریباً بے عیب کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، جنہوں نے ان کی انتظامیہ کو متعدد قانونی چیلنجز کے دوران وقتی ریلیف فراہم کیا۔سپریم کورٹ نے سرکاری اخراجات میں کٹوتیوں، ملک گیر انجنکشنز، امیگریشن پالیسیوں اور دیگر امور پر ٹرمپ کے حق میں فیصلے دیے، جسے وائٹ ہاؤس نے اپنی 12”فتوحات“قرار دیا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ کامیابیاں عارضی ہیں کیونکہنئے عدالتی سیشن میںان معاملات پر مکمل سماعت کرے گا اور ٹرمپ ایجنڈے کے اہم حصے یا تو حتمی طور پر قائم ہوں گے یا منسوخ۔

وفاقی ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ عدالت عالیہ نچلی عدالتوں کے پالیسی سازی میں زیادہ مداخلت کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایمرجنسی ڈاکٹ کے ذریعے بڑے پیمانے پر حکومتی ملازمین کو برطرف کرنے، امیگریشن پالیسیوں میں سخت اقدامات، بیرونی امداد روکنے اور فوج سے ٹرانس جینڈر اہلکاروں کے اخراج جیسے اقدامات کے لیے وقتی منظوری حاصل کی ہے۔فوکس نیوز کے مطابق قدامت پسند قانونی تجزیہ کار کیری سیوری نو کا کہنا ہے کہ عدالت فوری فیصلوں میں یہ دیکھتی ہے کہ فریقین کو ناقابلِ تلافی نقصان کا خدشہ تو نہیں۔ اسی تناظر میں عدالت نے ٹرمپ کو بائیڈن کی مقررہ ایف ٹی سی کمشنر ربیکا سلاٹر کو برطرف کرنے کی اجازت دی۔ تاہم، ایک حالیہ کیس میں سپریم کورٹ نے ٹرمپ کو فیڈرل ریزرو گورنر لیزا کک کو برطرف کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور جنوری میں اس کیس کی سماعت کا اعلان کیا۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے یہ عبوری فیصلے مستقبل میں بدل بھی سکتے ہیں، اور ٹرمپ انتظامیہ کو حتمی فیصلوں میں لازمی طور پر کامیابی نہیں ملے گی۔

Trump scores temporary wins in Supreme Court, final rulings on spending cuts and immigration still pending

Related Articles

Back to top button