اداریہ: ہماری کمیونٹی منصفانہ کار انشورنس ریٹس کی مستحق ہے ، نہ کہ ایک ایسا نظام جو ہمارے خلاف بنایا گیا ہو
جنوبی ایشیائی خاندان ملک میں سب سے زیادہ آٹو انشورنس پریمیم ادا کر رہے ہیں، جبکہ فراڈ پر قابو نہیں پایا جا رہا
ان محلوں میں جہاں ہماری کمیونٹی نے اپنی جڑیں مضبوط کی ہیں ، جیکسن ہائٹس، جمیکا، اوزون پارک، اور بروکلین کی کونی آئی لینڈ ایونیو — جنوبی ایشیائی خاندان ایک خاموش بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ نیویارک میں کار انشورنس کی لاگت ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔ مکمل کوریج کا اوسط سالانہ پریمیم اب 4,000 ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ بہت سے پاکستانی، بنگلہ دیشی اور بھارتی خاندانوں کے لیے یہ ماہانہ 333 ڈالر سے زیادہ بنتا ہے، جو پہلے ہی محدود گھریلو بجٹ پر ایک بھاری بوجھ ہے۔
میں خود اس بوجھ کو محسوس کرتا ہوں۔ ہماری کمیونٹی کے بہت سے افراد کی طرح، میں اپنی روزی کمانے، اپنے خاندان کو مسجد لے جانے، اور اپنے علاقوں میں موجود گروسری اسٹورز اور ڈاکٹروں تک پہنچنے کے لیے گاڑی پر انحصار کرتا ہوں۔ اس کے باوجود ہر سال میرا پریمیم بڑھتا جا رہا ہے — حالانکہ نہ کوئی حادثہ ہوا، نہ کوئی چالان، نہ کوئی کلیم۔ یہ نظام اچھے رویے کا صلہ نہیں دیتا بلکہ اس کی سزا دیتا ہے۔
ہماری کمیونٹی میں ہزاروں ٹیکسی اور رائیڈ شیئر ڈرائیورز، چھوٹے کاروبار چلانے والے افراد، اور ایسے خاندان شامل ہیں جہاں ہر ڈالر کی اہمیت ہوتی ہے۔ جب انشورنس کی لاگت بے قابو ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات ہر جگہ محسوس ہوتے ہیں: مقامی حلال اسٹورز پر اشیائے خوردونوش مہنگی ہو جاتی ہیں، ڈیلیوری کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، اور خاندان اس مشکل فیصلے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ گاڑی کی انشورنس برقرار رکھیں یا بچوں کی تعلیم اور بیرونِ ملک عزیزوں کو بھیجی جانے والی رقوم کو ترجیح دیں۔
ان بھاری پریمیمز کی بنیادی وجہ ہماری ڈرائیونگ نہیں بلکہ ریاست بھر میں پھیلا ہوا فراڈ ہے۔ 2023 میں نیویارک میں 1,729 جعلی کار حادثات رپورٹ ہوئے — جو ملک میں دوسرے نمبر پر ہیں — اور 38,000 سے زائد مشتبہ فراڈ کیسز سامنے آئے۔ منظم جرائم پیشہ گروہ جان بوجھ کر حادثات کرواتے ہیں، متاثرین کو بدعنوان میڈیکل کلینکس تک لے جاتے ہیں، اور جعلی یا بڑھا چڑھا کر کلیمز داخل کرتے ہیں۔ اس فراڈ کی وجہ سے ہر ایماندار ڈرائیور کے سالانہ پریمیم میں 200 سے 300 ڈالر کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ جنوبی ایشیائی خاندان نادانستہ طور پر مجرموں کو سبسڈی دے رہے ہیں۔
گورنر ہوچل کی مجوزہ اصلاحات ایک مؤثر راستہ پیش کرتی ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ریاستی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے محکموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی قائم کی جائے گی تاکہ فراڈ گروہوں کا خاتمہ کیا جا سکے، جعلی حادثات کے اصل منصوبہ سازوں کو سزا دی جا سکے، دھوکہ دہی میں ملوث طبی اداروں کو جوابدہ بنایا جائے، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بچت کا فائدہ انشورنس ہولڈرز کو ملے، نہ کہ صرف انشورنس کمپنیوں کو۔ فلوریڈا میں اسی نوعیت کی اصلاحات کے بعد اوسط ریٹس میں 8 فیصد کمی آئی اور تقریباً ایک ارب ڈالر براہِ راست صارفین کو واپس ملے۔
ریاستی قانون سازوں کو اس بجٹ اجلاس کے دوران فوری اقدام کرنا چاہیے۔ میں اپنے قارئین سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے اسٹیٹ سینیٹر اور اسمبلی ممبر سے رابطہ کریں۔ انہیں بتائیں کہ نیویارک میں جنوبی ایشیائی کمیونٹی ایک خراب نظام کی قیمت ادا کر رہی ہے، اور ہمیں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ یہ سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ایک بنیادی سوال ہے: کیا جیکسن ہائٹس کا ایک ٹیکسی ڈرائیور اپنا کام جاری رکھ سکتا ہے؟ کیا جمیکا میں ایک خاندان اپنی گاڑی کی انشورنس برداشت کر سکتا ہے؟ اور کیا محنتی اور ایماندار تارکینِ وطن کو اس نظام میں انصاف ملے گا جس پر وہ اعتماد کرتے ہیں؟
البانی کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کی طاقت ہے۔ ہماری کمیونٹی دیکھ رہی ہے۔ اب عمل کا وقت ہے۔
Read in English – EDITORIAL: Our Community Deserves Fair Insurance Rates — Not a System Rigged Against Us



