ہیٹی کے امیگرنٹس کا ’ٹی پی ایس ‘سٹیٹس ختم کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے، نیویارک ہوٹل ایسوسی ایشن کا مطالبہ
ہیٹی کے امیگرنٹس کے ٹی پی ایس سٹیٹس کے خاتمے سے نیویارک میں رہنے والے ہزاروں ہیٹی باشندوں اور ہوٹل انڈسٹری کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، نیویارک ہوٹل ایسوسی ایشن

نیویارک ( محسن ظہیر سے ) نیویارک میں ہوٹل ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت سے ہیٹی کے امیگرنٹس کے عارضی قانونی محفوظ حیثیت (ٹی پی ایس ) پروگرام ختم کرنے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے متاثرہ کارکنوں اور ان کے خاندانوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ہوٹل ایسوسی ایشن آف نیویارک سٹی کے صدر اور چیف ایگزیکٹو وجے ڈنڈاپانی نے کہا ہے کہہیٹی کے امیگرنٹس کے ٹی پی ایس سٹیٹس کے خاتمے سے نیویارک میں رہنے والے ہزاروں ہیٹی باشندوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ اس فیصلے کے اثرات شہر کی معیشت اور کاروباری اداروں تک بھی پہنچیں گے۔
ہوٹل ایسوسی ایشن کے مطابق نیویارک کے ہوٹلوں کی افرادی قوت میں تقریباً 85 فیصد حصہ تارکین وطن کا ہے۔ ہوٹل کی صنعت میں کام کرنے والے اندازاً 1200 ہیٹی باشندے بھی عارضی محفوظ حیثیت ختم ہونے سے براہ راست یا بالواسطہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ یہ کارکن نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں بلکہ نیویارک کی ہوٹل اور سیاحت کی صنعت میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
وجے ڈنڈاپانی نے کہا کہ وہ خود ایک تارک وطن کی حیثیت سے اس بات کو سمجھتے ہیں کہ نیویارک اور ہوٹل کی صنعت تارکین وطن کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتی ہے، لیکن یہ مواقع اسی وقت مو¿ثر ثابت ہوتے ہیں جب لوگوں کو خوف کے بغیر یہاں رہنے اور کام کرنے کی اجازت ہو۔ ان کے مطابق ہیٹی نڑاد نیویارکرز ہوٹل اور مہمان نوازی کے شعبے کا اہم حصہ ہیں اور ان کی خدمات نیویارک کی معیشت اور کاروبار کو مضبوط بناتی ہیں۔
ہوٹل ایسوسی ایشن نے عارضی محفوظ حیثیت سے متاثرہ ہیٹی باشندوں کو مختلف وسائل تک رسائی، ملازمت کے قانونی حق اور دیگر فوائد کے حصول میں رہنمائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی فاو¿نڈیشن کے ذریعے مدد کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
ہیٹی چیمبر آف کامرس اور دیگر کمیونٹی رہنماو¿ں کے علاوہ سٹی کونسل کی رکن فرح لوئس، رکن ریٹا جوزف، اسمبلی مین وینل اور شہر و ریاست کے متعدد منتخب نمائندے بھی وفاقی حکومت سے ہیٹی باشندوں کے لیے عارضی محفوظ حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ہیٹی چیمبرز آف کامرس کی فیڈریشن کے صدر رون سی ٹوٹ نے کہا کہ عارضی محفوظ حیثیت کا خاتمہ صرف امیگریشن کا مسئلہ نہیں بلکہ خاندانوں، کاروباروں اور مقامی معیشت کے استحکام سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق ہیٹی باشندے کارکن، کاروباری افراد، صارفین اور ٹیکس دہندگان کی حیثیت سے نیویارک کی معیشت میں روزانہ اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
نیوجرسی کے شہر الزبتھ میں فرسٹ ریپبلک لاو¿نج اینڈ ریسٹورنٹ اور مین ہٹن کے لوئر ایسٹ سائڈ میں ریبل ریسٹورنٹ اینڈ بار کے مالک فریڈ رافیل نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہیٹی کارکن ریستورانوں اور مہمان نوازی کے شعبے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور عارضی محفوظ حیثیت ختم ہونے سے تجربہ کار اور محنتی کارکن اپنے روزگار اور خاندانوں کے مستقبل کے حوالے سے شدید غیر یقینی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
بروکلین کالج کے ہیٹی اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر میری للی سیرا نے کہا کہ ہیٹی باشندوں کے عارضی محفوظ حیثیت سے محروم ہونے کے اثرات صرف ان افراد اور خاندانوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ نیویارک کی معاشی اور سماجی زندگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ہیٹی نڑاد نیویارکرز کئی دہائیوں سے کارکنوں، کاروباری افراد، گھر کے مالکان، والدین اور کمیونٹی رہنماو¿ں کی حیثیت سے شہر کی تعمیر اور ترقی میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
وجے ڈنڈاپانی نے حال ہی میں بروکلین کالج میں دی ہیٹیئن ٹائمز کے زیر اہتمام ایک خصوصی اجلاس میں بھی شرکت کی، جہاں بدلتی ہوئی وفاقی امیگریشن پالیسیوں اور نیویارک کی مہمان نوازی کی صنعت پر ان کے اثرات، بالخصوص ہیٹی اور دیگر تارکین وطن کارکنوں کو درپیش مسائل پر گفتگو کی گئی۔
ہوٹل ایسوسی ایشن آف نیویارک سٹی 1878 میں قائم ہوئی تھی اور اسے امریکہ کی قدیم ترین ہوٹل ایسوسی ایشن قرار دیا جاتا ہے۔ ایسوسی ایشن نیویارک کے تقریباً 300 ہوٹلوں کی نمائندگی کرتی ہے، جن میں 80 ہزار سے زائد کمرے اور تقریباً 50 ہزار ملازمین شامل ہیں۔
NYC Hotel Association Urges Immediate Reversal of TPS Revocation for Haitians
The Hotel Association of New York City is calling on the federal government to immediately reverse the termination of Temporary Protected Status for Haitians, warning that the decision could put thousands of Haitian New Yorkers, families and businesses at risk.
HANYC President and CEO Vijay Dandapani said Haitian immigrants are an essential part of New York City’s hospitality workforce and economy. An estimated 1,200 Haitian New Yorkers working in the hotel industry could be directly or indirectly affected by the TPS termination.
HANYC has pledged to support affected workers by connecting them with resources, providing foundation support and helping them navigate employment eligibility and access to benefits.
Dandapani joined Haitian community leaders, business representatives and elected officials in urging the federal government to restore TPS, emphasizing that protecting immigrant workers is critical to protecting New York City’s economy.



