پاکستانکالم و مضامین

میلاد مصطفی اور سیرت مصطفی ﷺ

تحریر: سید میر حسین شاہ چشتی نظامی (بانی و امام مسجد بیت الکرم بروکلین، نیویارک)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمدللہ! ربیع الاول شریف کا مہینہ سایہ فگن ہے ، محافل اور جلوس کا اہتمام ہوتا ہے ہم محبت، عقیدت اور شکر کے جذبات کے ساتھ جمع ہوتے ہیں تاکہ ہم میلادِ مصطفیٰ ﷺ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺکی ولادتِ مبارکہ اور ان کی عظیم سیرت کو یاد کریں۔جب ہم میلاد کا ذکر کرتے ہیں تو ہم صرف تاریخ کا ایک دن یاد نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ ہم اس عظیم ہستی کی آمد کو یاد کر رہے ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کے لیے سب سے بڑا معلم، سب سے بہترین نمونہ اور سب سے بڑی رحمت بنا کر بھیجا۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں ؛
”بے شک تمہارے لیے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے“سورہ الاحزاب 33:21
نبی کریم ﷺ ہر معاملے میں بہترین نمونہ تھے ، عبادت میں، سچائی میں، صبر میں، رحم دلی میں، گھر والوں کے ساتھ حسنِ سلوک میں، پڑوسیوں کے حقوق میں، اور حتیٰ کہ ان لوگوں کے ساتھ بھی جو آپ سے اختلاف کرتے تھے۔
اور اللہ تعالیٰ آپ ? کے اخلاق کے بارے میں فرماتا ہے:
”اور بے شک آپ عظیم اخلاق کے مالک ہیں“ سورہ القلم 68:4
اسی لیے نبی کریم کی سیرتِ طیبہ کو سیکھنا بہت ضروری ہے۔
ہم سیکھتے ہیں کہ آپ بچوں سے محبت کرتے تھے، غریبوں کا خیال رکھتے تھے، پڑوسیوں کا احترام کرتے تھے، دشمنوں کو معاف کر دیتے تھے، اور مشکل ترین حالات میں بھی صبر کا دامن نہیں چھوڑتے تھے۔
نبی کریم ?نے فرمایا:”تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاو¿ں“(صحیح بخاری 15)
لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس محبت کا اظہار کیسے کریں؟
رسول اللہ سے ہماری محبت صرف زبان تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ یہ ہمارے کردار میں نظر آنی چاہیے۔
اگر ہم نبی ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں نرم گفتگو کرنی چاہیے۔اگر ہم نبی ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں معاف کرنا سیکھنا چاہیے۔اگر ہم نبی ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں غصے پر قابو پانا چاہیے۔
اگر ہم نبی ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں وعدے پورے کرنے چاہئیں، اپنے گھر والوں کا خیال رکھنا چاہیے، ضرورت مندوں کی مدد کرنی چاہیے، دوسروں کا احترام کرنا چاہیے اور امن و سلامتی کو پھیلانا چاہیے۔
میلادِ مصطفیٰ ﷺکی اصل خوبصورتی صرف اجتماع نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم سیرتِ نبوی کو اپنی زندگی میں شامل کریں۔
آئیے ہم اپنے گھروں کو آپ کی رحمت کا مظہر بنائیں،اپنے تعلقات کو آپ کے صبر کا آئینہ بنائیں،اپنی کمیونٹی کو آپ کی سخاوت کا نمونہ بنائیں،اپنی گفتگو کو آپ کی سچائی سے مزین کریںاور اپنے دلوں کو درود و سلام کے ذریعے ہمیشہ نبی کریم سے جوڑے رکھیں۔
میلاد ہمیں محبت کی یاد دلاتا ہے، لیکن اس محبت کا سب سے بہترین اظہار یہ ہے کہ ہم سال بھر سیرت اور سنت کے مطابق زندگی گزاریں۔اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں نبی کریم ﷺ کی سچی محبت پیدا فرمائے، ہمیں ان کی سیرت سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے اخلاق کو بہتر بنائے، اور ہماری نسلوں کو بھی آپ کے نقشِ قدم پر چلنے والا بنائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جنہیں نبی کریم ﷺکی شفاعت نصیب ہو اور جو جنت الفردوس میں آپ کے ساتھ ہوں۔
آمین یا رب العالمین۔
جزاکم اللہ خیراً۔

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے