امریکا میں نئے ’ایچ ون بی‘H1B ویزا درخواست گزاروں پر ایک لاکھ تین ہزار ڈالر سے زائد فیس کی تجویز
اگر کسی امریکی کمپنی کو ملازمین کی ضرورت ہے تو اسے پہلے امریکی شہریوں کو ملازمت دینی اور انہیں تربیت فراہم کرنی چاہیے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس
ٹرمپ انتظامیہ کا اقدام، امیگریشن ماہرین نے اسے امریکی کمپنیوں اور عالمی ٹیلنٹ کے لیے نقصان دہ قرار دے دیا،امریکن امیگریشن لائرز ایسوسی ایشن
اگر کسی امریکی کمپنی کو ملازمین کی ضرورت ہے تو اسے پہلے امریکی شہریوں کو ملازمت دینی اور انہیں تربیت فراہم کرنی چاہیے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس
نیویارک ( محسن ظہیر سے ) ٹرمپ انتظامیہ نے نئے ’ایچ ون بی ‘(H1-B)ویزوں کے اجرا سے متعلق ایک بڑی فیس عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ وفاقی رجسٹر میں شائع ہونے والی مجوزہ قانون سازی کے تحت امریکی کمپنیاں ایسے نئے H-1B ویزا درخواست گزاروں کے لیے ایک لاکھ تین ہزار ڈالر سے زائد فی درخواست فیس ادا کریں گی جو سالانہ مقررہ حد کے تحت آتے ہیں۔
امریکن امیگریشن لائرز ایسوسی ایشن ’ایچ ون بی‘نے اس تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی معیشت کے مختلف شعبوں میں غیرملکی ماہرین کی ضرورت ہے۔ تنظیم کے مطابق اس قدر بھاری فیس امریکی کمپنیوں کے لیے غیرملکی پروفیشنلز کی خدمات حاصل کرنا مشکل بنا سکتی ہے، خصوصاً ان شعبوں میں جہاں پہلے ہی افرادی قوت کی کمی ہے۔
امریکن امیگریشن لائرز ایسوسی ایشن کے صدر جیف جوزف نے کہا کہ امریکی آجر ایسے غیرملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرتے ہیں جو اساتذہ، محققین، دیہی علاقوں کے ڈاکٹروں اور مذہبی پیشواو¿ں سمیت مختلف اہم شعبوں میں افرادی قوت کی کمی پوری کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مجوزہ فیس ’ایچ ون بی‘پروگرام میں شرکت کو بہت سے اداروں کے لیے ناقابلِ رسائی بنا سکتی ہے۔
امریکن امیگریشن لائرز ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بینجمن جانسن نے کہا کہ یہ تجویز ’ایچ ون بی‘پروگرام کو مزید مہنگا اور امریکی کمپنیوں کے لیے مشکل بنانے والی پالیسیوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سائنسدانوں، ڈاکٹروں، انجینئرز اور کاروباری افراد کے لیے امریکا کے دروازے مشکل بنانے سے ملک کی تحقیق، جدت، روزگار اور معاشی مسابقت متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی سطح کے ہنرمند افراد امریکا کا رخ کرنے کے بجائے دوسرے ممالک، خصوصاً کینیڈا اور چین، کا انتخاب کرتے ہیں تو امریکی معیشت کو طویل مدت میں نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پر اپنے موقف میں کہا ہے کہ اگر کسی امریکی کمپنی کو ملازمین کی ضرورت ہے تو اسے پہلے امریکی شہریوں کو ملازمت دینی اور انہیں تربیت فراہم کرنی چاہیے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق انتظامیہ کی نئی تجویز کے تحت ’ایچ ون بی‘ویزا کے بیشتر نئے درخواست گزاروں پر چھ ہندسوں والی فیس عائد ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اقدام صرف بیرونِ ملک سے درخواست دینے والوں تک محدود نہیں ہوگا، جبکہ اس سے قبل ایک لاکھ ڈالر فیس عائد کرنے کا منصوبہ سامنے آیا تھا جسے وفاقی عدالتوں میں چیلنج کیا گیا اور عدالتوں نے اسے کالعدم قرار دیا تھا۔
امیگریشن ماہرین کے مطابق نئی تجویز کی حتمی شکل اور اس کے عملی اثرات کا انحصار آئندہ قانونی اور انتظامی کارروائی پر ہوگا، تاہم اگر یہ فیس نافذ ہوتی ہے تو ’ایچ ون بی‘پروگرام کے ذریعے غیرملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے والی امریکی کمپنیوں پر مالی بوجھ نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔



