کالم و مضامینخبریں

ریاست اور حکومت میں فرق،قانون سے باہر زندگی، قانون کے تحفظ سے محرومی

کیا ہم قانون کی پابندی صرف اس وقت کرتے ہیں جب ہمیں سزا کا خوف ہو، یا اس لیے کہ ہم انصاف اور اجتماعی بھلائی پر یقین رکھتے ہیں؟

تحریر: عمران حیدر

کسی بھی ملک میں قانون، انصاف اور شہریوں کے حقوق پر گفتگو کرنے سے پہلے ایک بنیادی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے، اور وہ ہے ریاست (State) اور حکومت (Government) کا فرق۔
روزمرہ گفتگو میں ہم اکثر ان دونوں الفاظ کو ایک ہی معنی میں استعمال کرتے ہیں، حالانکہ آئینی اور سیاسی اعتبار سے ان دونوں کی حیثیت بالکل مختلف ہے۔
ریاست ایک مستقل اور پائیدار نظام کا نام ہے۔ اس میں ملک کی سرزمین، عوام، آئین، عدالتیں، پارلیمنٹ، پولیس، فوج، سرکاری ادارے اور قومی خودمختاری شامل ہوتی ہے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن ریاست اپنی شناخت، اپنے آئین اور اپنے اداروں کے ساتھ قائم رہتی ہے۔ ریاست کسی ایک فرد، جماعت یا حکومت کی ملکیت نہیں ہوتی بلکہ یہ پورے ملک اور اس کے تمام شہریوں کی مشترکہ امانت ہوتی ہے۔
اس کے برعکس حکومت ان لوگوں کا مجموعہ ہے جنہیں ایک مقررہ مدت کے لیے ریاست کے معاملات چلانے کی ذمہ داری دی جاتی ہے۔ حکومت عوام کے ووٹ یا آئینی طریقۂ کار کے ذریعے قائم ہوتی ہے۔ اس کا فرض قانون نافذ کرنا، عوام کو خدمات فراہم کرنا، ریاستی اداروں کو آئین کے مطابق چلانا اور ملک کے انتظام و انصرام کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔

نوٹ: عمران حیدر کے گذشتہ کالم پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں ۔۔۔۔ عمران حیدر نیویارک کالمز

اس فرق کو ایک آسان مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔
فرض کریں ایک بڑی کمپنی ہے۔ کمپنی خود ریاست ہے، جبکہ اس کا چیف ایگزیکٹو، بورڈ آف ڈائریکٹرز اور انتظامیہ حکومت ہیں۔ اگر کل کمپنی کا چیف ایگزیکٹو تبدیل ہو جائے تو کمپنی ختم نہیں ہوتی، صرف اس کی انتظامیہ بدلتی ہے۔
اسی طرح ایک اسکول کی مثال لیجیے۔ اسکول کی عمارت، اس کے قوانین، اساتذہ، طلبہ اور ادارہ اپنی جگہ قائم رہتے ہیں، لیکن پرنسپل وقتاً فوقتاً تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہاں اسکول ریاست ہے اور پرنسپل حکومت۔
بالکل اسی طرح کسی بھی ملک میں حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، لیکن ریاست برقرار رہتی ہے۔
اسی لیے کسی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنا ریاست سے دشمنی نہیں، اور ریاست سے وفاداری کا مطلب کسی ایک حکومت یا سیاسی جماعت کی غیر مشروط حمایت بھی نہیں ہوتا۔ حکومت عوام کی خدمت کے لیے بنتی ہے، جبکہ ریاست عوام کی مشترکہ امانت ہوتی ہے۔
ایک اچھی حکومت وہ ہوتی ہے جو خود کو ریاست کا مالک نہیں بلکہ عوام کا خادم سمجھے، آئین کی پاسداری کرے، قانون کو سب پر یکساں نافذ کرے اور انصاف کی فراہمی کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھے۔
یہ فرق سمجھنے کے بعد ایک اور بنیادی سوال سامنے آتا ہے۔

قانون کس کے لیے ہے؟
قانون کا مقصد لوگوں کو خوف زدہ کرنا نہیں بلکہ انہیں تحفظ فراہم کرنا ہے۔ قانون اس لیے بنایا جاتا ہے کہ ہر شہری کے جان، مال، عزت اور آزادی کا تحفظ ہو، کمزور کو انصاف ملے، طاقتور قانون کے تابع رہے اور معاشرے میں امن و امان قائم رہے۔
لیکن قانون اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب اس کا احترام بھی کیا جائے اور اس کا نفاذ بھی انصاف کے ساتھ ہو۔
یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ جو شخص قانون سے باہر زندگی گزارنے کا انتخاب کرتا ہے، وہ آہستہ آہستہ قانون کے تحفظ سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔
اگر کوئی شہری ٹیکس چوری کو معمول بنا لے، رشوت دے یا لے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچائے، دوسروں کے حقوق پامال کرے یا اپنے مفاد کے لیے قانون شکنی کرے تو وہ صرف قانون نہیں توڑ رہا ہوتا بلکہ اپنے معاشرے اور ریاست کی بنیادیں بھی کمزور کر رہا ہوتا ہے۔
پھر جب اسی شخص کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو وہ قانون سے انصاف اور تحفظ کی توقع رکھتا ہے۔
دوسری طرف حکومت کی ذمہ داری بھی اتنی ہی اہم ہے۔
اگر قانون صرف کمزور پر نافذ ہو اور طاقتور اس سے بالاتر نظر آئے، اگر انصاف میں تاخیر معمول بن جائے، اگر احتساب افراد کے بجائے ان کی حیثیت دیکھ کر کیا جائے، یا اگر قوانین عوام کی خدمت کے بجائے صرف اقتدار کے تحفظ کا ذریعہ محسوس ہونے لگیں، تو عوام کا اعتماد قانون سے اٹھنے لگتا ہے۔
قانون کی اصل طاقت سزا میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے۔
برطانوی فلسفی Thomas Hobbes کا کہنا تھا کہ قانون کے بغیر معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ John Locke کے مطابق حکومت کا بنیادی فرض شہریوں کے جان، مال اور آزادی کا تحفظ ہے۔ Jean-Jacques Rousseau نے حکومت کی طاقت کو عوام کی رضامندی سے مشروط قرار دیا، جبکہ Max Weber نے ریاست کو وہ ادارہ قرار دیا جو قانون کے مطابق اختیار استعمال کرنے کا جائز حق رکھتا ہے۔
ان تمام مفکرین کے خیالات مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن ایک اصول پر سب متفق تھے کہ حکومت کا مقصد عوام کی خدمت اور قانون کا مقصد انصاف ہونا چاہیے، نہ کہ صرف اقتدار کا تحفظ۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک عام شہری کیسے پہچانے کہ کون سا قانون عوام کے فائدے کے لیے ہے اور کون سا صرف لوگوں کو قابو میں رکھنے کے لیے؟

اس کا جواب نسبتاً آسان ہے۔
ایک اچھا اور منصفانہ قانون وہ ہوتا ہے جو سب پر یکساں لاگو ہو، کمزور اور طاقتور میں فرق نہ کرے، بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرے، آزاد عدلیہ تک رسائی فراہم کرے، شفاف ہو اور پرامن اختلافِ رائے کی اجازت دے۔
اس کے برعکس اگر کسی قانون کا نفاذ صرف مخصوص لوگوں پر ہو، اس میں امتیاز برتا جائے، شفافیت نہ ہو یا اس کا مقصد عوام کے بجائے صرف اقتدار کا تحفظ محسوس ہو، تو ایسے قانون پر سوال اٹھنا ایک فطری اور جمہوری حق ہے۔
تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ قومیں صرف زیادہ قوانین بنانے سے مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ قانون پر یکساں عمل سے مضبوط بنتی ہیں۔ جب حکومت قانون کے تابع ہو، ادارے آزاد ہوں اور شہری اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تو انصاف، ترقی، معاشی استحکام اور قومی یکجہتی خود بخود مضبوط ہونے لگتی ہے۔
ریاست کی اصل طاقت اس کے ہتھیار، عمارتیں یا خزانے نہیں ہوتے بلکہ وہ اعتماد ہوتا ہے جو عوام کو اپنے آئین، اپنے قانون اور اپنے اداروں پر حاصل ہوتا ہے۔
آخر میں سوال صرف حکومت سے نہیں بلکہ ہر شہری سے بھی ہے۔
کیا ہم قانون کی پابندی صرف اس وقت کرتے ہیں جب ہمیں سزا کا خوف ہو، یا اس لیے کہ ہم انصاف اور اجتماعی بھلائی پر یقین رکھتے ہیں؟
کیا حکومت واقعی ریاست کی امانت کو دیانت داری سے چلا رہی ہے، یا کہیں ریاست اور حکومت کے فرق کو مٹا کر خود کو ہی ریاست سمجھنے لگی ہے؟
اور کیا ہم سب، شہری اور حکمران، اس بات کے لیے تیار ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہو، کوئی قانون سے بالاتر نہ ہو، اور کوئی بھی قانون کے تحفظ سے محروم نہ رہے؟
شاید انہی سوالوں کے جواب یہ طے کریں گے کہ ہمارا مستقبل ایک مضبوط ریاست، منصفانہ معاشرے اور قانون کی حقیقی حکمرانی کی طرف جائے گا یا ہم قانون سے دور ہو کر آہستہ آہستہ اس کے تحفظ سے بھی محروم ہوتے چلے جائیں گے۔
بلکہ ہر شہری سے بھی ہے۔
کیا ہم قانون کی پابندی صرف اس وقت کرتے ہیں جب ہمیں سزا کا خوف ہو، یا اس لیے کہ ہم انصاف اور اجتماعی بھلائی پر یقین رکھتے ہیں؟
کیا حکومت واقعی ریاست کی امانت کو دیانت داری سے چلا رہی ہے، یا کہیں ریاست اور حکومت کے فرق کو مٹا کر خود کو ہی ریاست سمجھنے لگی ہے؟
اور کیا ہم سب، شہری اور حکمران، اس بات کے لیے تیار ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہو، کوئی قانون سے بالاتر نہ ہو، اور کوئی بھی قانون کے تحفظ سے محروم نہ رہے؟
شاید انہی سوالوں کے جواب یہ طے کریں گے کہ ہمارا مستقبل ایک مضبوط ریاست، منصفانہ معاشرے اور قانون کی حقیقی حکمرانی کی طرف جائے گا یا ہم قانون سے دور ہو کر آہستہ آہستہ اس کے تحفظ سے بھی محروم ہوتے چلے جائیں گے

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button