میٹھی قید: کامیابی کی دوڑ میں کھوتا ہوا انسان
اگر کوئی مکھی شہد میں ڈوب جائے تو وہ اس لیے نہیں مرتی کہ شہد زہریلا ہوتا ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ حد سے زیادہ اس میں الجھ جاتی ہے
تحریر: عمران حیدر
آج کے دور میں کامیابی کو زندگی کا سب سے بڑا مقصد سمجھ لیا گیا ہے۔ اچھی ملازمت، زیادہ آمدنی، سماجی پہچان اور اثر و رسوخ وہ پیمانے بن چکے ہیں جن پر ایک انسان کی قدر کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ بچپن سے ہمیں یہی سکھایا جاتا ہے کہ آگے بڑھتے رہیں، محنت کریں اور کسی بھی قیمت پر پیچھے نہ رہیں۔
یہ سوچ اپنی جگہ درست ہے، لیکن اس کے کچھ ایسے پہلو بھی ہیں جن پر کم ہی بات کی جاتی ہے۔
ایک سادہ سی مثال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے۔ اگر کوئی مکھی شہد میں ڈوب جائے تو وہ اس لیے نہیں مرتی کہ شہد زہریلا ہوتا ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ حد سے زیادہ اس میں الجھ جاتی ہے۔ وہ اپنی حد بھول جاتی ہے۔
کچھ ایسا ہی حال آج کے انسان کا بھی ہے۔
ہم سب بہتر زندگی، زیادہ سہولت، اور زیادہ کامیابی کے لیے مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ ابتدا میں یہ کوشش ہمیں خوشی دیتی ہے۔ کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اطمینان محسوس ہوتا ہے، اور آگے بڑھنے کا حوصلہ ملتا ہے۔
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہی خواہش ایک دباؤ میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔
ہم سکون کو مؤخر کر دیتے ہیں اور خوشی کو مستقبل کے کسی مقام سے جوڑ دیتے ہیں۔ ہم یہ سوچتے ہیں کہ جب ہم اگلا ہدف حاصل کر لیں گے تو سب کچھ بہتر ہو جائے گا۔ لیکن یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔
ایک ہدف کے بعد دوسرا ہدف سامنے آ جاتا ہے۔
اسی دوران ایک اہم تبدیلی آہستہ آہستہ رونما ہوتی ہے۔ انسان اپنی اصل ذات سے دور ہونے لگتا ہے۔ وہ وقت جو خاندان، دوستوں اور اپنی ذات کے لیے ہونا چاہیے تھا، وہ کام اور ذمہ داریوں میں صرف ہو جاتا ہے۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بظاہر کامیاب ہونے کے باوجود انسان کے اندر ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے۔
آج کل بہت سے لوگ بظاہر کامیاب نظر آتے ہیں، لیکن اندر سے وہ تھکن، دباؤ اور بے اطمینانی کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ تقریباً ہر طبقے میں پایا جاتا ہے۔
یہ کہنا غلط ہوگا کہ کامیابی یا خواہش بری چیز ہے۔ درحقیقت ترقی اور بہتری کے لیے خواہش کا ہونا ضروری ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب یہی خواہش حد سے بڑھ جائے اور انسان اپنی زندگی کے توازن کو کھو دے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کامیابی کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی زندگی، ذہنی سکون اور تعلقات کو بھی اہمیت دیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کامیابی کوئی آخری منزل نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر ہے۔ اگر اس سفر میں ہم اپنا سکون، اپنی خوشی اور اپنی پہچان کھو دیں تو اس کامیابی کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔
متوازن زندگی ہی اصل کامیابی ہے۔
آخر میں ہر انسان کو خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے
کیا ہم واقعی اس مٹھاس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں
یا آہستہ آہستہ اسی میں ڈوب رہے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں ۔۔۔ عبادت کا مہینہ، آزمائش کی دنیا ،کیا انسانیت جاگے گی؟
Imran Haider Column



