امریکہ میں بچوں کے جنسی استحصال کے کیس میں نام نہاد امام اور ساتھی کو70اور80سال قید کی سزا
عدالتی دستاویزات کے مطابق وسام شریفی خود کو امام ظاہر کرتے ہوئے آن لائن استاد تھا اور دعویٰ کرتا تھا کہ وہ دنیا بھر میں 25 ہزار سے زائد طلبہ کو تعلیم دے چکا ہے، باراکات اس کا آن لائن شاگرد تھا
امریکہ میں بچوں کے جنسی استحصال کے کیس میں نام نہاد امام اور ساتھی کو70اور80سال قید کی سزا
عدالتی دستاویزات کے مطابق وسام شریفی خود کو امام ظاہر کرتے ہوئے آن لائن استاد تھا اور دعویٰ کرتا تھا کہ وہ دنیا بھر میں 25 ہزار سے زائد طلبہ کو تعلیم دے چکا ہے، باراکات اس کا آن لائن شاگرد تھا
نیویارک ( محسن ظہیر سے ) امریکی اٹارنی پرائم ایف ایسکلونا نے اعلان کیا ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال کی سازش میں ملوث دو ملزمان کو وفاقی عدالت کی جانب سے طویل قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف بی آئی ) اور یو ایس جسٹس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق امریکی ڈسٹرکٹ جج اینا ایم مناسکو نے وسام شریفی (44 سال)، رہائشی یولیس، ٹیکساس، کو 960 ماہ قید (80 سال) اور اس کے بعد عمر بھر کے لیے سپروائزڈ ریلیز کی سزا سنائی۔ عدالت نے ایمی، وکی اور اینڈی ایکٹ (AVAA) کے تحت وسام شریفی پر 1 لاکھ 35 ہزار ڈالر خصوصی جرمانہ بھی عائد کیا۔
CASE UPDATE from @FBIDallas: Two individuals have been sentenced to 70 and 80 years in prison for their roles in a conspiracy to sexually exploit a child.
Using the title of Imam, Wisam Sharieff, 44, was an online instructor who specialized in Quran recitation and professed to… pic.twitter.com/TGhLHXtk0W
— FBI (@FBI) February 4, 2026
وسام شریفی نے جون 2025 میں بچوں کے جنسی استحصال کی سازش، چائلڈ پورنوگرافی کی وصولی و تقسیم اور بچوں کے جنسی استحصال کے الزامات میں جرم قبول کیا تھا۔
اس کیس میں شریک ملزم بلیک ملر باراکات المعروف “حمنا” (50 سال)، رہائشی شیل بی کاو¿نٹی، الاباما، کو اکتوبر 2025 میں 840 ماہ قید (70 سال) اور عمر بھر کے لیے سپروائزڈ ریلیز کی سزا سنائی گئی تھی۔ باراکات پر AVAA کے تحت 30 ہزار ڈالر خصوصی جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ اس نے جون 2025 میں بچوں کے جنسی استحصال، چائلڈ پورنوگرافی کی تقسیم اور اس کی ملکیت کے الزامات میں جرم تسلیم کیا تھا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق وسام شریفی خود کو امام ظاہر کرتے ہوئے آن لائن قرآن کی تلاوت کا استاد تھا اور دعویٰ کرتا تھا کہ وہ دنیا بھر میں 25 ہزار سے زائد طلبہ کو تعلیم دے چکا ہے۔ باراکات اس کا آن لائن شاگرد تھا۔ شریفی نے باراکات کو یہ گمراہ کن نظریہ دیا کہ جنسی لذت کے ذریعے قرآن کی تلاوت بہتر کی جا سکتی ہے اور اللہ سے قرب حاصل ہوتا ہے۔
اکتوبر 2024 میں دونوں ملزمان نے آن لائن ایک دوسرے کے ساتھ فحش ویڈیوز دیکھیں اور شیئر کیں، بعد ازاں سات سالہ بچے کو یہ ویڈیوز دیکھنے پر مجبور کیا گیا اور اسے جنسی حرکات پر اکسانے کے بعد چائلڈ پورنوگرافی تیار کی گئی۔
امریکی اٹارنی پرائم ایف ایسکلونا نے کہا کہ ”یہ جرائم معاشرے کے بدترین اور ناقابلِ برداشت جرائم میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ دفتر بچوں کو نشانہ بنانے والے مجرموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے گا۔“
ایف بی آئی برمنگھم ڈویژن کے اسپیشل ایجنٹ انچارج ڈیوڈ آر فٹزگبنز نے کہا کہ بچوں کا استحصال ایک سنگین جرم ہے جس کے خلاف فوری اور فیصلہ کن قانون نافذ کرنے کی کارروائی ضروری ہے۔
اس مقدمے کی تحقیقات ایف بی آئی برمنگھم چائلڈ ایکسپلائٹیشن اینڈ ہیومن ٹریفکنگ ٹاسک فورس، ایف بی آئی ڈلاس فورٹ ورتھ وائلنٹ کرائمز ٹاسک فورس، شیل بی کاو¿نٹی شیرف آفس (الاباما) اور یولیس پولیس ڈیپارٹمنٹ (ٹیکساس) نے مشترکہ طور پر کیں۔ کیس کی پیروی اسسٹنٹ یونائیٹڈ اسٹیٹس اٹارنی آر لین وائٹ نے کی۔
یہ کارروائی محکمہ انصاف کے قومی پروگرام پروجیکٹ سیف چائلڈہ±ڈ کے تحت عمل میں لائی گئی، جس کا مقصد بچوں کے جنسی استحصال اور آن لائن جرائم کے خاتمے کے لیے وفاقی، ریاستی اور مقامی وسائل کو یکجا کرنا ہے۔



