عالمی حالات میں پاکستان کا کردار :موثر سفارتکاری سے مضبوط معیشت تک
ایک اوورسیز پاکستانی کی حیثیت سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ حالیہ دنوں میں پاکستان نے جس طرح ایران اور عربوں کے مابین کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اپنا مثبت کردار ادا کیا
تحریر: میاں ذاکر حسین نسیم (یو ایس اے)
پاکستان نے عالمی سطح پرجو اعتماد حاصل کیا ہے ،وہ ایک ایسا موقع ہے جسے محض سفارتی کامیابی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اسے عوامی خوشحالی میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے
مشرقِ وسطی میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر دنیا کو ایک بڑے تصادم کے خطرے سے دوچار کر دیا تھامگر ایسے حساس اور غیر یقینی حالات میں پاکستان نے جس سنجیدہ، ذمہ دار اور موثر سفارتی کردار کا مظاہرہ کیا ہے وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ قومی اعتماد میں اضافے کا باعث بھی بنا ہے۔
ایک اوورسیز پاکستانی کی حیثیت سے جو وطن سے دور رہ کر بھی اپنے ملک کے حالات پر نظر رکھتا ہے اور اپنے پاکستانی بھائیوں کے مسائل کو دل سے محسوس کرتا ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ حالیہ دنوں میں پاکستان نے جس طرح ایران اور عربوں کے مابین کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اپنا مثبت کردار ادا کیا اور عالمی سطح پر اعتماد حاصل کیا ہے وہ ایک ایسا موقع ہے جسے محض سفارتی کامیابی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اسے عوامی خوشحالی میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وطن عزیز کی سیاسی و فوجی قیادت نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس دس مئی کو بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران جس انداز سے پاکستان نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔اس سے بھی پاکستان کی توقیر میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا اور اس کے بعد سے ہی امریکی صدر ٹرمپ سید عاصم منیر کو بہترین فیلڈ مارشل کہتے نہیں تھکتے۔
بھارت کیساتھ اس جنگ نے نہ صرف افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے نمایاں کیا بلکہ بیرونِ ملک بسنے والے پاکستانیوں کے دلوں میں اپنی فوج کے لیے فخر اور اعتماد میں مزید اضافہ کیا۔اسی طرح آج جب پاکستان اسرائیل ، امریکہ اور ایران کے مابین جنگ میں عالمی سطح پر ایک مثبت سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں کامیاب نظر آ رہا ہے تو یہی وہ موقع ہے جب ہمیں اس کامیابی کو عملی قومی فائدے میں تبدیل کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کیونکہ اس وقت پاکستان کے عوام کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ معاشی ریلیف ہے۔آئے روز بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی کے بلند نرخ، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور صنعتوں کی سست روی نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔
ایسے حالات میں ایران جیسے ہمسایہ ملک کے ساتھ تیل اور گیس کی خریداری کا معاہدہ پاکستان کیلئے ایک انقلابی فیصلہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایران دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں توانائی کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور جغرافیائی قربت پاکستان کو قدرتی طور پر سستی توانائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اگر پاکستان اس وقت اپنی کامیاب سفارتکاری سے پیدا ہونے والے مثبت عالمی ماحول کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے ساتھ توانائی تعاون کو عملی شکل دے دیتا ہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف بجلی کی پیداواری لاگت کم ہو سکتی ہے بلکہ صنعتوں کو استحکام ملے گا، روزگار کے مواقع بڑھیں گے، مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور عام شہری کو براہِ راست ریلیف حاصل ہو سکے گا۔
ماضی میں عالمی دبا و¿کے باعث پاکستان کئی اہم معاشی فیصلے بروقت نہ کر سکا لیکن موجودہ صورتحال اس لحاظ سے مختلف ہے کہ پاکستان اس وقت خود ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور یہی وہ موقع ہے جب قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے متوازن خارجہ پالیسی کے تحت امریکہ کے ساتھ مثبت تعلقات برقرار رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ توانائی تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے کیونکہ ایک مضبوط اور خودمختار خارجہ پالیسی ہمیشہ اسی توازن کا تقاضا کرتی ہے۔ ایک اوورسیز پاکستانی کی حیثیت سے میری یہی خواہش ہے کہ پاکستان اپنی حالیہ سفارتی کامیابیوں کو محض بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عوامی خوشحالی میں تبدیل کرے تاکہ ملک کے اندر رہنے والے کروڑوں پاکستانی مہنگائی اور معاشی دبا سے نکل کر ایک بہتر اور باوقار زندگی گزار سکیں اور پاکستان ایک مضبوط، خوداعتماد اور معاشی طور پر مستحکم ریاست کے طور پر آگے بڑھ سکے۔



