کالم و مضامیناوورسیز پاکستانیز

میکالے: وہ شخص جس نے برصغیر کو بغیر فوج کے فتح کر لیا

میکالے کا منصوبہ: کیا برصغیر آج بھی نوآبادیاتی نظام کی گرفت میں ہے؟

تحریر: عمران حیدر

1835ء میکالے نے برصغیر میں انگریزی نظامِ تعلیم کے نفاذ کے لیے اپنی مشہور تعلیمی یادداشت تحریر کی

تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنی زندگی میں جتنا اثر چھوڑتی ہیں، اس سے کہیں زیادہ اثر ان کے نظریات اور پالیسیاں آنے والی نسلوں پر ڈالتی ہیں۔ تھامس بیبنگٹن میکالے بھی ایسی ہی ایک شخصیت تھے۔ ان کے انتقال کو تقریباً دو صدیاں گزر چکی ہیں، لیکن ان کے بنائے ہوئے تعلیمی، انتظامی اور قانونی ڈھانچے کے اثرات آج بھی پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سمیت پورے جنوبی ایشیا میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا میکالے صرف ایک تعلیمی مصلح تھے، یا پھر ایک ایسے نوآبادیاتی منصوبہ ساز جنہوں نے ایک ایسا نظام تشکیل دیا جو برطانوی راج کے خاتمے کے بعد بھی قائم رہا؟

چند ہزار حکمران، کروڑوں عوام

انیسویں صدی میں برطانوی سلطنت ایک حیران کن حقیقت کا سامنا کر رہی تھی۔ برصغیر میں کروڑوں لوگ آباد تھے، لیکن ان پر حکومت کرنے والے برطانوی افسروں اور فوجیوں کی تعداد انتہائی کم تھی۔

برطانوی حکمران جانتے تھے کہ صرف بندوقوں اور فوج کے ذریعے اتنی بڑی آبادی کو زیادہ دیر تک قابو میں نہیں رکھا جا سکتا۔ انہیں ایسے مقامی افراد درکار تھے جو ان کے نظام کو چلائیں، ان کے قوانین نافذ کریں، ٹیکس وصول کریں اور عوام کو حکمرانوں کے تابع رکھنے میں مدد دیں۔

یہیں سے میکالے کی حکمت عملی اہم بن جاتی ہے۔

ایک نئے طبقے کی تشکیل

1835ء میں میکالے نے انگریزی تعلیم کے فروغ کی حمایت کی۔ بظاہر مقصد جدید تعلیم دینا تھا، لیکن اس کے ساتھ ایک ایسا طبقہ بھی پیدا کرنا تھا جو حکمرانوں اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرے۔

میکالے نے خود لکھا تھا کہ وہ ایک ایسی جماعت پیدا کرنا چاہتے ہیں جو خون اور رنگ کے اعتبار سے ہندوستانی ہو، لیکن سوچ، نظریات اور ذہنی رجحانات کے اعتبار سے انگریز ہو۔

چند ہی دہائیوں میں ایک نیا طبقہ وجود میں آ گیا۔ یہی لوگ سرکاری دفاتر، عدالتوں، پولیس، فوج اور انتظامیہ میں نمایاں عہدوں پر فائز ہوئے۔

یوں برطانوی حکومت نے ایک ایسا نظام تشکیل دیا جس میں ہندوستانیوں کے ذریعے ہندوستانیوں پر حکومت کی جانے لگی۔

ہندوستانی عوام پر ہندوستانیوں کے ذریعے حکمرانی

آزادی کے متوالوں کو گرفتار کرنے والے اکثر مقامی پولیس افسر ہوتے تھے۔

ان پر مقدمات چلانے والے وکیل بھی مقامی ہوتے تھے۔

اور سزائیں سنانے والے جج بھی اسی سرزمین کے باشندے ہوتے تھے۔

یہ ایک ایسی حکمت عملی تھی جس نے برطانوی راج کو کم لاگت اور کم افرادی قوت کے باوجود مضبوط رکھا۔

تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی کئی سلطنتوں نے یہی طریقہ اختیار کیا: عوام کو کنٹرول کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ انہی میں سے ایک طبقے کو اقتدار اور مراعات دے کر حکومتی ڈھانچے کا حصہ بنا لیا جائے۔

آزادی آئی، مگر کیا نظام بدلا؟

1947ء میں برطانوی راج کا خاتمہ ہو گیا، جھنڈے بدل گئے، حکمران بدل گئے، لیکن ایک اہم سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے:

کیا نظام بھی بدلا؟

بہت سے ناقدین کا خیال ہے کہ برطانوی دور میں پیدا ہونے والا اشرافیہ طبقہ وقت کے ساتھ مزید طاقتور ہوتا گیا۔ اقتدار کے ایوان، اعلیٰ بیوروکریسی، بڑے تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز اور فیصلہ سازی کے اہم ادارے آج بھی محدود طبقوں کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں۔

جن لوگوں کو اعلیٰ تعلیم، بہترین مواقع اور حکومتی رسائی حاصل ہے، وہ مسلسل آگے بڑھتے جاتے ہیں، جبکہ کروڑوں عام شہری بنیادی تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کے لیے جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔

طبقاتی فرق: ایک تلخ حقیقت

اگر آج جنوبی ایشیا کے بڑے شہروں پر نظر ڈالی جائے تو ایک عجیب تضاد دکھائی دیتا ہے۔

ایک طرف بلند و بالا عمارتیں، مہنگی گاڑیاں، نجی اسکول، خصوصی کالونیاں اور طاقتور طبقے ہیں۔

دوسری طرف کچی آبادیاں، کمزور سرکاری اسکول، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات سے محروم کروڑوں لوگ ہیں۔

یہ طبقاتی فرق صرف معاشی نہیں بلکہ تعلیمی، سماجی اور سیاسی بھی ہے۔

بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ نوآبادیاتی دور میں قائم ہونے والے طاقت اور اختیار کے ڈھانچے نے اس فرق کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا، جہاں چند خاندان، چند ادارے اور محدود اشرافیہ اکثر فیصلہ سازی پر غالب رہتے ہیں۔

میکالے کی میراث آج بھی زندہ ہے

آج بھی انگریزی زبان اقتدار، اعلیٰ ملازمتوں، عدلیہ، بیوروکریسی اور اشرافیہ کی شناخت سمجھی جاتی ہے۔

آج بھی نوآبادیاتی دور کے کئی قوانین اور انتظامی ڈھانچے مختلف شکلوں میں موجود ہیں۔

آج بھی عام شہری اور اقتدار کے مراکز کے درمیان ایک واضح فاصلہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔

اسی لیے میکالے کا نام صرف تاریخ کی کتابوں تک محدود نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے موجودہ سیاسی، سماجی اور تعلیمی نظام پر ہونے والی بحث کا بھی حصہ ہے۔

آخری سوال

شاید میکالے کا سب سے بڑا کارنامہ یا سب سے بڑی تنقید یہی ہے کہ انہوں نے صرف ایک تعلیمی نظام نہیں بنایا بلکہ ایک ایسا انتظامی اور سماجی ڈھانچہ تشکیل دینے میں کردار ادا کیا جس کے اثرات دو سو سال بعد بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

برطانوی راج ختم ہو گیا، لیکن کیا وہ نظام بھی ختم ہوا جس نے چند لوگوں کو طاقت اور اکثریت کو تابع رکھنے میں مدد دی؟

کیا جنوبی ایشیا کے عوام واقعی آزاد ہیں، یا صرف حکمرانوں کے چہرے بدلے ہیں؟

اور آخر وہ دن کب آئے گا جب اس خطے کے کروڑوں لوگ طبقاتی تفریق، طاقت کے ارتکاز اور نوآبادیاتی ورثے کے اثرات سے حقیقی معنوں میں آزاد ہو سکیں گے؟

Imran Haider

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button