پاکستانامیگریشن نیوز

کوئنز میں بڑا سیاسی اپ سیٹ؛ جینیفر راج کمار پرائمری الیکشن ہار گئیں، ڈیوڈ اورکن کامیاب

جینیفر راج کمار کی شکست کو نہ صرف کوئنز بلکہ نیویارک کی جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے

نیویارک (اردو نیوز)نیویارک کے علاقے کوئنز کی 38ویں اسمبلی ڈسٹرکٹ میں ہونے والے ڈیموکریٹک پرائمری انتخابات میں ایک بڑا سیاسی اپ سیٹ سامنے آیا ہے، جہاں موجودہ رکن اسمبلی جینیفر راج کمار کو ان کے ترقی پسند حریف ڈیوڈ اورکن نے شکست دے دی۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق ڈیوڈ اورکن نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے نومبر کے عام انتخابات کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی حاصل کر لی ہے۔
جینیفر راج کمار کی شکست کو نہ صرف کوئنز بلکہ نیویارک کی جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ جینیفر راج کمار 2020 میں منتخب ہونے والی پہلی جنوبی ایشیائی نڑاد خاتون تھیں جنہوں نے نیویارک اسٹیٹ اسمبلی میں جگہ بنائی اور تاریخ رقم کی۔ ان کی کامیابی کو بھارتی، پاکستانی، بنگلہ دیشی، نیپالی اور دیگر جنوبی ایشیائی برادریوں کے سیاسی اثر و رسوخ میں اضافے کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس انتخاب میں کوئنز اور نیویارک سٹی کی سیاست میں بڑھتے ہوئے ترقی پسند اور سوشلسٹ رجحانات نے اہم کردار ادا کیا۔ ڈیوڈ اورکن کو متعدد ترقی پسند تنظیموں اور بائیں بازو کے گروپوں کی حمایت حاصل تھی جبکہ وہ امیگریشن حقوق، رہائشی مسائل اور سماجی انصاف کے موضوعات پر سرگرم رہے ہیں۔38ویں اسمبلی ڈسٹرکٹ میں رچمنڈ ہل، ساو¿تھ رچمنڈ ہل، اوزون پارک، ووڈ ہیون، گلینڈیل اور رج ووڈ جیسے علاقے شامل ہیں جہاں جنوبی ایشیائی، خصوصاً بھارتی اور پاکستانی نڑاد ووٹرز کی بڑی تعداد آباد ہے۔ جینیفر راج کمار گزشتہ پانچ برسوں سے اس ضلع کی نمائندگی کر رہی تھیں اور کمیونٹی تقریبات، چھوٹے کاروباروں کی معاونت اور نفرت انگیز جرائم کے خلاف قانون سازی کے حوالے سے سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جینیفر راج کمار کی شکست صرف ایک امیدوار کی ہار نہیں بلکہ نیویارک کی بدلتی ہوئی سیاسی فضا کی عکاسی کرتی ہے، جہاں روایتی اور اعتدال پسند ڈیموکریٹک امیدواروں کو ترقی پسند امیدواروں کی جانب سے سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسی انتخابی سلسلے میں کوئنز اور نیویارک کے دیگر حلقوں میں بھی کئی موجودہ منتخب نمائندے شکست سے دوچار ہوئے ہیں۔
اگرچہ جینیفر راج کمار اس بار اسمبلی کی نشست برقرار رکھنے میں ناکام رہیں، تاہم جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے بہت سے رہنما اور کارکن ان کی سیاسی خدمات کو تاریخی قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے نیویارک کی سیاست میں جنوبی ایشیائی برادری کی نمائندگی کے لیے نئی راہیں کھولیں اور آنے والی نسلوں کے لیے سیاسی میدان میں آگے بڑھنے کا راستہ ہموار کیا۔
دوسری جانب ڈیوڈ اورکن کی کامیابی کو کوئنز میں ترقی پسند سیاست کے ابھار کا ایک اور اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ نومبر کے عام انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار ہونے کے باعث ان کی پوزیشن کافی مضبوط ہوگی۔

Big Political Upset in Queens; Jennifer Rajkumar Loses Primary, David Orkin Wins

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button