ٹیکساس امیگریشن سنٹر حملہ کیس ، فیڈرل عدالت نے 8 افراد کو مجموعی طور پر 450 سال قید سنا دی
فیڈرل پراسیکیوٹرز کے مطابق یہ واقعہ 4 جولائی 2025 کو اس وقت پیش آیا جب ڈٹینشن سینٹر کے باہر احتجاج کے دوران صورتحال پرتشدد ہو گئی
ٹیکساس امیگریشن سنٹر حملہ کیس ، فیڈرل عدالت نے 8 افراد کو مجموعی طور پر 450 سال قید سنا دی
فیڈرل پراسیکیوٹرز کے مطابق یہ واقعہ 4 جولائی 2025 کو اس وقت پیش آیا جب ڈٹینشن سینٹر کے باہر احتجاج کے دوران صورتحال پرتشدد ہو گئی
ٹیکساس (اردو نیوز) امریکی ریاست ٹیکساس میں پرازی لینڈ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICEآئس )حوالات سنٹر کے باہر 2025 میں ہونے والے حملے کے کیس میں عدالت نے 8 افراد کو مجموعی طور پر 450 سال قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔فیڈرل پراسیکیوٹرز کے مطابق یہ واقعہ 4 جولائی 2025 کو اس وقت پیش آیا جب ڈٹینشن سینٹر کے باہر احتجاج کے دوران صورتحال پرتشدد ہو گئی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کیا گیا۔عدالت میں ایک ایک کر کے ملزمان کو سزائیں سنائی گئیں، جبکہ باہر ان کے اہلِ خانہ اور حامی موجود تھے۔ کچھ افراد نے فیصلے کو سخت اور افسوسناک قرار دیا۔
ملزمان کو مختلف سزائیں دی گئیں: بینجمن سونگ ، 100 سال، ماریسیلا روئیدا، 70 سال، دیگر پانچ افراد کو 50، 50، 50، 50 اور 30 سال قید کی سزا سنائی گئی ۔
بینجمن سونگ پر پولیس اہلکار کو فائرنگ کر کے زخمی کرنے کا الزام ثابت ہوا، جس پر اسے سب سے طویل سزا دی گئی۔حامیوں کا موقف ہے کہ یہ احتجاج امیگریشن پالیسیوں کے خلاف تھا اور صورتحال کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، جبکہ ان کے وکیل نے بھی عدالت کے فیصلے پر تنقید کی۔دوسری جانب پراسیکیوٹرز نے مو¿قف اختیار کیا کہ یہ ایک منظم اور منصوبہ بند حملہ تھا جس کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانا تھا۔ انہوں نے اسے “انتہائی سنگین حملہ” قرار دیا۔اس کیس نے شمالی ٹیکساس میں گزشتہ ایک سال کے دوران خاصی توجہ حاصل کی اور اب عدالتی کارروائی مکمل ہو چکی ہے، تاہم فیصلے پر بحث اور اختلاف رائے جاری ہے۔



