امریکی سپریم کورٹ برتھ رائٹ سٹیزن شپ سمیت آٹھ اہم کیسوں میں بیشتر فیصلے سنائے گی
امریکی سپریم کورٹ میں امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں کے پیدائشی امریکی شہریت کے حق کے خاتمے کے کیس سمیت آٹھ کیسوں میں سے بیشتر کیسوں کے فیصلے سنائے جانے کا دن ہے
امریکی سپریم کورٹ برتھ رائٹ سٹیزن شپ سمیت آٹھ اہم کیسوں میں بیشتر فیصلے سنائے گی
امریکی سپریم کورٹ میں امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں کے پیدائشی امریکی شہریت کے حق کے خاتمے کے کیس سمیت آٹھ کیسوں میں سے بیشتر کیسوں کے فیصلے سنائے جانے کا دن ہے
واشنگٹن (اردو نیوز)امریکی سپریم کورٹ میں سوموار، 29جون کا دن اہم دن ہے ۔ آج امریکی سپریم کورٹ میں امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں کے پیدائشی امریکی شہریت کے حق کے خاتمے کے کیس سمیت آٹھ کیسوں میں سے بیشتر کیسوں کے فیصلے سنائے جانے کا دن ہے ۔ ان کیسوں کی وجہ سے سب کی نظریں سپریم کورٹ پر مرکوز ہیں کیونکہ ان فیصلوں کے امریکہ کی سیاست، امیگریشن، انتخابی قوانین اور شہری حقوق پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکی سپریم کورٹ میںزیر التوا کیسوں میں سب سے زیادہ توجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر پر مرکوز ہے جس میں غیر قانونی طور پر امریکہ میں موجود افراد ، عارضی ویزا رکھنے والوں اور حتیٰ کہ غیر قانونی تارکین وطن کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار امریکی شہریت دینے کے پیدائشی حق کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس کیس کے فیصلے کو برتھ رائٹ سٹیزن شپ کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ انتخابی قوانین سے متعلق بھی دو مقدمات کا فیصلہ سنائے گی۔ ایک مقدمہ اس بات سے متعلق ہے کہ کیا وہ میل اِن بیلٹ جو الیکشن ڈے تک پوسٹ کر دیے جائیں لیکن بعد میں وصول ہوں، انہیں شمار کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ دوسرا مقدمہ سیاسی جماعتوں کے انتخابی اخراجات پر عائد وفاقی پابندیوں سے متعلق ہے۔
اسی طرح تین مقدمات صدارتی اختیارات سے متعلق ہیں، جن میں وفاقی اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں کو برطرف کرنے کے صدر کے اختیار کا جائزہ لیا جائے گا۔دو دیگر مقدمات ٹرانس جینڈر کھلاڑیوں کی کھیلوں میں شرکت سے متعلق ہیں، جن میں سپریم کورٹ یہ طے کرے گی کہ آیا بعض ریاستوں کی جانب سے ٹرانس جینڈر خواتین اور لڑکیوں پر خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے کی پابندیاں وفاقی قانون سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں۔
سپریم کورٹ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے سے فیصلے سنانا شروع کرے گی، تاہم پہلے سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آٹھ میں سے کن مقدمات کے فیصلے آج جاری کیے جائیں گے۔



