کاروانِ فکر و فن شمالی کے زیر اہتمام ڈاکٹر ہارون خورشید پاشا کی کتاب ”خود شناسی کا سفر“کی تقریب پذیرائی
ڈاکٹر ہارون پاشا کی کتاب کی تقریب رونمائی عتیق صدیقی کی صدارت میں منعقد ہوئی، ڈاکٹر پرویز اقبال نے بھی میزبانی کے فرائض انجام دئیے ،قونصل جنرل عامر اتوزئی کی خصوصی شرکت
وکیل انصاری ، اعجاز بھٹی ، قانع ادا، راجہ اویس اور ساتھیوں کے زیر اہتمام تقریب میں نظامت کے فرائض وکیل انصاری اور اعجاز بھٹی نے انجام دئیے ، رفیع الدین راز کی صدارت میں مشاعرہ
نیویارک (رپورٹ: اویس راجا)شمالی امریکہ میں اردو زبان و ادب کی ترویج کے لیے سرگرمِ عمل مایہ ناز تنظیم “کاروانِ فکر و فن شمالی امریکہ” نے ایک بار پھر اپنی شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ایک انتہائی کامیاب اور پروقار پروگرام کا انعقاد کیا، نیویارک کے معروف ادبی افق پر سجنے والی یہ شامِ علم، نثر اور شاعری کا ایک ایسا حسین امتزاج تھی جو دیر تک حاضرین کے دلوں پر نقش رہے گی۔ یہ تقریب بلخ کباب افغان چائے خانہ میں منعقد کی گئی۔پروگرام کا آغاز روایتی تہذیبی شائستگی کے ساتھ ایک پرتعیش اور پروقار ظہرانے سے ہوا، جس کے بعد تمام معزز مہمان اور شرکائے محفل اپنی اپنی نشستوں پر متمکن ہوئے اور باقاعدہ کارروائی کا آغاز ہوا۔
ابتدائی سیشن کی نظامت کے فرائض محترمہ طاہرہ شریف نے انتہائی خوش اسلوبی اور سلیقے سے سنبھالے۔ انہوں نے خوبصورت لفظی پیرائے کے ساتھ سٹیج کا کنٹرول حاصل کیا اور طارق مسعود کو تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کرنے کے لیے مدعو کیا۔ تلاوتِ قرآنِ مجید کی نورانی آیات سے فضا مسحور ہونے کے بعد، ناظمہِ تقریب نے تنظیم کی نائب صدر محترمہ قانع ادا کو سٹیج پر تشریف لانے کی دعوت دی۔ محترمہ قانع ادا نے دور و نزدیک سے آئے ہوئے تمام معزز مہمانوں کا انتہائی گرمجوشی اور پرتپاک انداز میں استقبال کیا اور کاروان کی جانب سے ان کا شکریہ ادا کیا۔
اس کے بعد محفل کو اگلے تعارفی مرحلے میں داخل کرنے کے لیے تنظیم کے جنرل سیکرٹری اعجاز حسین بھٹی کو مائیک سنبھالنے کی دعوت دی گئی۔ بھٹی صاحب نے روایتی مروّت اور چاک و چوبند انداز میں تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور تقریب کے معزز قائدین کو سٹیج پر مدعو کیا۔ انہوں نے صاحبِ صدارت عتیق صدیقی ، مہمانِ خصوصی اور تقریب کے اصل دولہا یعنی مصنف ڈاکٹر ہارون خورشید پاشا، ان کے دیرینہ دوست اور تقریب کے میزبان ڈاکٹر پرویز اقبال، اور قونصلیٹ جنرل عامر احمد اتوزئی کو سٹیج کی زینت بننے کی گزارش کی۔
معزز مہمانوں کے سٹیج پر تشریف فرما ہونے کے بعد، اعجاز بھٹی نے پروگرام کی باقاعدہ علمی کارروائی کو آگے بڑھانے کے لیے تنظیم کے روحِ رواں اور متحرک ادبی شخصیت جناب وکیل انصاری کو دعوتِ سخن دی۔ وکیل انصاری صاحب نے ہال میں موجود تمام علمی و ادبی شخصیات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پروگرام کے باقاعدہ شیڈول اور کاروان کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔
ادبی سیشن کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے وکیل انصاری نے سٹیج پر تنظیم کے جوائنٹ سیکرٹری اویس راجا کو مدعو کیا۔ اویس راجا نے نہایت مدلل، جامع اور پرکشش انداز میں مہمانِ خصوصی ڈاکٹر ہارون خورشید پاشا کا مختصر مگر بھرپور تعارف پیش کیا اور ان کی علمی و ادبی خدمات کا احاطہ کیا۔ ان کے بعد، تقریب کے میزبان اور مہمانِ اعزاز ڈاکٹر پرویز اقبال مائیک پر تشریف لائے۔ انہوں نے مصنف کے ساتھ اپنے کالج کے دور کی خوبصورت یادداشتیں، دلچسپ شرارتیں اور نوک جھونک سامعین کے سامنے رکھیں، جن کی ظرافت اور شگفتگی سے ہال قہقہوں سے گونج اٹھا اور ماحول انتہائی خوشگوار ہو گیا۔
شگفتگی کے اس دور کے بعد محفل میں دوبارہ سنجیدہ علمی رنگ غالب آیا۔ ڈاکٹر ہارون خورشید پاشا کی تصنیف “خود شناسی کا سفر” (سچی کہانیاں، مشاہدات اور جگ بیتی) پر گہرے علمی و تنقیدی تبصرے کے لیے نیویارک کے معروف افسانہ نگار اور شاعر جناب جمیل عثمان اور اردو ادب کے مایہ ناز افسانہ نگار اور مشہور جدید لب و لہجے کے شاعررفیع الدین راز کو دعوت دی گئی۔ دونوں صاحبانِ علم نے کتاب کے اسلوب، اس کے متن اور معنویت پر نہایت خوبصورت اور فکر انگیز گفتگو کی اور مصنف کی نثر نگاری اور باریک بینی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس علمی گفتگو کے بعد قونصلیٹ جنرل جناب عامر احمد اتوزئی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کاروانِ فکر و فن کی ان تھک کوششوں کو سراہا اور کہا کہ دیارِ غیر میں اردو زبان و ادب کا علم بلند رکھنا قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے مصنف کی ادبی کاوش کی دل کھول کر حوصلہ افزائی کی۔
تقریب کے آخری مراحل میں خود مصنف اور مہمانِ خصوصی ڈاکٹر ہارون خورشید پاشا مائیک پر تشریف لائے۔ انہوں نے نہایت عاجزی اور خوبصورت پیرائے میں اپنی کتاب کی تخلیق کے محرکات اور اپنی شخصیت کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی اور تمام مبصرین اور کاروان کی ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ پہلے حصے کے اختتام پر صاحبِ صدارت کالم نگار جناب عتیق صدیقی نے صدارتی کلمات کہے اور کتاب پر اپنی فکری آراءکا اظہار کرتے ہوئے پہلے سیشن کے باقاعدہ اختتام کا اعلان کیا۔
پروگرام کا دوسرا حصہ ایک شاندار مشاعرے پر مشتمل تھا جس کی نظامت کے فرائض تنظیم کے جنرل سیکرٹری جناب اعجاز حسین بھٹی نے کمالِ مہارت سے انجام دیے۔ روایت کے مطابق، میزبانِ محفل جناب وکیل انصاری نے اپنے خوبصورت کلام سے مشاعرے کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس باوقار مشاعرے کی صدارت اردو کے ممتاز شاعر جناب رفیع الدین راز نے فرمائی۔
مشاعرے میں نیویارک اور گردونواح کے چنیدہ شعراءکرام نے اپنا کلام پیش کر کے محفل کو چار چاند لگا دیے۔ کلام سنانے والے معزز شعراءمیں درج ذیل شخصیات شامل تھیں:
محترمہ گلناز احمد، یوسف خان ،جمیل عثمان، اویس راجا،محترمہ قانع ادا، اعجاز حسین بھٹی، ڈاکٹر ہارون خورشید پاشا (مہمانِ خصوصی) رفیع الدین راز (صاحبِ صدارت)
تمام شعراءکرام نے ایک سے بڑھ کر ایک غزل اور اشعار سے نوازا، اور ہال میں موجود سامعین نے دل کھول کر داد دی۔ پروگرام کے آغاز میں لذیزذ طعام اور آخر میں مسحور کن شعری نشست کے اس خوبصورت تال میل نے اس محفل کو یادگار بنا دیا۔ بلا شبہ، یہ تقریب کاروانِ فکر و فن شمالی امریکہ کے بینر تلے ہونے والے پروگراموں میں سے ایک کامیاب ترین اور جاندار ترین اضافہ ثابت ہوئی۔



