پاکستانبین الاقوامی

میکسیکو کے راستے ہزاروں غیر ملکیوں کو امریکہ سمگل کرنے والا ملزم گرفتار، ایک پاکستانی بھی شریک جرم !

ایفرین زونیگا گارشیا نے افغانستان، یمن، مصر، بھارت، پاکستان، کولمبیا، گوئٹے مالا، ہونڈوراس اور ایکواڈور سمیت مختلف ممالک کے ہزاوں افراد کو میکسیکو کے راستے غیر قانونی طور پر امریکہ پہنچایا

نیویارک ( اردونیوز) امریکی جسٹس ڈیپارٹمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ میکسیکو سے حوالگی کے بعد امریکہ لائے گئے ایک میکسیکو کے شہری نےمعاوضہ لے کر ہزاروں غیر ملکیوں کو غیر قانونی طور پر امریکہ سمگل کرنے کی بین الاقوامی سازش میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔

یو ایس جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق 38سالہ ایفرین زونیگا گارشیا نومبر 2020 سے ستمبر 2023 تک ایک بڑے بین الاقوامی انسانی سمگلنگ نیٹ ورک کا حصہ رہا، جس نے افغانستان، یمن، مصر، بھارت، پاکستان، کولمبیا، گوئٹے مالا، ہونڈوراس اور ایکواڈور سمیت مختلف ممالک کے ڈھائی ہزار سے تین ہزارافراد کو میکسیکو کے راستے غیر قانونی طور پر امریکہ پہنچایا۔
پریس ریلیز کے مطابق اس نیٹ ورک نے میکسیکو کے شہروں مونٹیری اور پیڈراس نیگراس میں خفیہ ٹھکانے قائم کر رکھے تھے، جہاں غیر ملکیوں کو عارضی طور پر رکھا جاتا تھا۔ بعد ازاں انہیں مسلح انسانی سمگلروں کے حوالے کیا جاتا، جو ریو گرانڈے دریا عبور کرا کے امریکہ میں داخل کرتے تھے۔حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کا آغاز برازیل میں موجود ایک پاکستانی انسانی سمگلر کے ذریعے ہوتا تھا، جو مختلف ممالک کے افراد سے امریکہ پہنچانے کے لیے رابطہ کرتا تھا۔ اس کے بعد ٹیکساس اور ہونڈوراس سے تعلق رکھنے والے دیگر ساتھی پورے آپریشن کو منظم کرتے تھے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ گروہ ہر فرد سے 6,500 سے 12,000 ڈالرز وصول کرتا تھا، جس سے صرف دو برسوں میں تقریباً 16سے 30 ملین ڈالرز کی آمدنی حاصل کی گئی۔
جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ایفرین زونیگا گارشیا مونٹیری میں قائم اس نیٹ ورک کے محفوظ ٹھکانے کا انچارج تھا اور وہ دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر غیر قانونی تارکین وطن کو وہاں منتقل کرنے، انہیں رکھنے اور بعد میں امریکی سرحد تک پہنچانے کے انتظامات کرتا تھا۔
ملزم نے امریکہ میں غیر قانونی طور پر افراد کو داخل کرنے کی سازش، مالی فائدے کے لیے غیر ملکیوں کو امریکہ لانے اور اس جرم میں معاونت کے الزامات کا اعتراف کر لیا ہے۔ عدالت کی جانب سے سزا سنانے کی تاریخ ابھی مقرر نہیں کی گئی، تاہم اسے کم از کم تین سال قیدکی لازمی سزا کا سامنا ہے، جبکہ حتمی سزا وفاقی عدالت بعد میں سنائے گی۔
جسٹس ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ اس کیس کی تحقیقات ہوم لینڈ سکیورٹی انویسٹی گیشنز ، امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن ،بارڈر پٹرول اور دیگر وفاقی اداروں نے مشترکہ طور پر کیں، جبکہ ملزم کی گرفتاری اور امریکہ حوالگی میں میکسیکو کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی تعاون کیا۔امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی جوائنٹ ٹاسک فورس الفا کے تحت کی گئی، جو انسانی سمگلنگ اور بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف امریکی محکمہ انصاف اور محکمہ داخلی سلامتی کی مشترکہ مہم کا حصہ ہے۔

Member of Vast International Alien Smuggling Organization Pleads Guilty

A Mexican man extradited from Mexico pleaded guilty today for conspiring to smuggle thousands of aliens from multiple countries into the United States for financial gain.

According to court documents, beginning in November 2020 and continuing through September 2023, Efrain Zuniga-Garcia, 38, of Mexico, and others were part of a vast international alien smuggling organization (ASO) that illegally brought thousands of aliens from Afghanistan, Yemen, Egypt, India, Pakistan, Colombia, Guatemala, Honduras, and Ecuador into the United States across the border with Mexico. The ASO operated stash houses in Monterrey, Mexico and Piedras Negras, Mexico. A Pakistani smuggler based in Brazil originally contracted with aliens to enter the smuggling venture. In turn, this Brazilian-based smuggler worked with a San Antonio, Texas, based smuggler and an illegal alien from Honduras, Enil Edil Mejia-Zuniga, to facilitate travel of the aliens from South America to the United States. Mejia-Zuniga directed operations, as well as paid armed foot guides (“coyotes”), load drivers, and stash house operators, including Zuniga-Garcia. According to court documents, Mejia-Zuniga admitted that the ASO smuggled between 2,500 to 3,000 aliens into the United States in just two years. Mejia-Zuniga stated the organization charged between $6,500 to $12,000 per alien, totaling approximately $16 to $30 million in financial gain. Mejia-Zuniga was sentenced to 10 years in prison in July 2025. Co-defendant Monica Hernandez-Palma, 34, of Mexico, was sentenced to 41 months in prison in May 2026.

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button