پاکستانامیگریشن نیوز

بریکنگ نیوز : امریکہ میں پیدا ہونیوالے بچے کا امریکی شہریت پیدائشی حق ہے ، امریکی سپریم کورٹ

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ نے اس ایگزیکٹو آرڈر کو کالعدم قرار دے دیا کہ جس کے تحت امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے پیدا ہونے والے بچوں کے پیدائشی شہریت کے حق پر پابندی عائد کی گئی تھی

امریکی سپریم کورٹ نے برتھ رائٹ سٹیزن شپ برقرار رکھتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر کالعدم قرار دے دیا، امریکی کمیونٹیزسپریم کورٹ کے فیصلے پر خوش

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ نے اس ایگزیکٹو آرڈر کو کالعدم قرار دے دیا کہ جس کے تحت امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے پیدا ہونے والے بچوں کے پیدائشی شہریت کے حق پر پابندی عائد کی گئی تھی

نیویارک ( محسن ظہیر سے )امریکی سپریم کورٹ نے منگل ،30جون کو قرار دیا ہے کہ امریکی آئین کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے بچے کو ققطع نظر اس کے والدین کے لیگل سٹیٹس کے امریکی شہریت کا حق حاصل ہے اور صدارتی ایگزیکٹو آرڈر کے تحت کسی بھی بچے کو اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے برتھ رائٹ سٹیزن شپ کیس ( شہریت کا پیدائشی حق ) میں دیا گیا ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کو بھی کالعدم قرار دے دیا گیا کہ جس کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں پر امریکی شہریت کے حصول پر پابندی عائد کی گئی تھی ۔
یو ایس سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کے تحت امریکہ کی سرزمین پر پیدا ہونے والے تقریباً تمام بچوں کو پیدائشی طور پر امریکی شہریت حاصل ہوتی ہے، قطع نظراُن کے والدین ،غیر قانونی طور پر امریکہ میں موجود ہوں یا عارضی ویزے پر مقیم ہوں۔
یو ایس سپریم کورٹ کا اکثریت سے کیا جانے والا فیصلہ چیف جسٹس جان جی رابرٹس جونیئر نے تحریر کیا اور فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر، آئین کی چودھویں ترمیم کے منافی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ امریکی شہریت ہر اس بچے کا آئینی حق ہے جو امریکہ میں پیدا ہو، اور اس حق کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔
چیف جسٹس رابرٹس نے اپنے فیصلے میں کہا کہ امریکی شہریت صرف ایک قانونی حیثیت نہیں بلکہ ایسے بنیادی حقوق کی ضمانت ہے جو ہر شہری کو اپنے ملک کے سیاسی اور سماجی نظام میں برابر کی شرکت کا حق دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چودھویں ترمیم کے ذریعے یہ وعدہ امریکہ میں پیدا ہونے والے ہر آزاد فرد سے کیا گیا تھا اور عدالت آج بھی اسی آئینی وعدے کو برقرار رکھتی ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکی شہریت کے پیدائشی حق کا قانونی تنازع صدر ٹرمپ کے موجودہ دورِ صدارت کے دوران سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا جس میں کہا گیا کہ امریکہ میں پیدا ہونے والے ایسے بچوں کو خودکار شہریت نہ دی جائے جن کے والدین غیر قانونی طور پر ملک میں موجود ہوں یا عارضی ویزوں، جیسے طالب علم، ورک یا سیاحتی ویزوں پر امریکہ آئے ہوں۔
صدر ٹرمپ کے اس حکم کے خلاف شہری حقوق کی تنظیموں، تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں اور متعدد متاثرہ خاندانوں نے عدالت سے رجوع کیا۔ مختلف وفاقی عدالتوں نے مقدمات کی سماعت کے دوران اس ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درآمد روک دیا، جس کے باعث یہ حکم کبھی نافذ ہی نہیں ہو سکا۔

نوٹ ؛ اہم اور تاز ہ خبروں کے لئے وزٹ کرتے رہیں ۔۔۔ اردو نیوز یو ایس اے

نوٹ: قارئین یہ ایک ڈویلپنگ سٹوری ہے، اسی لنک کو کچھ دیر کے بعد دوبرہ کلک کریں اور اپ ڈیٹ حاصل کریں ۔۔۔ اردو نیوز یو ایس اے

Urdu News USA

Urdu News USA https://www.urdunewsus.com/

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button